خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 912
خطبات ناصر جلد دوم ۹۱۲ خطبه جمعه ٫۳اکتوبر ۱۹۶۹ء لیتا ہے اور اپنے لئے وہ حقوق تسلیم کروانا چاہتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اسے نہیں دیئے اور دوسروں کے حقوق کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے اور جو زائد اموال اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کے لئے دیئے گئے تھے یعنی یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ جو اموال ایسے شخص کو دیئے جاتے ہیں اس کے دوحصے ہوتے ہیں ایک وہ حصہ جو اس کے اپنے حقوق ، اس کے خاندان کے حقوق کی ادائیگی کے لئے اور اس کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے ہیں لیکن اس کے ان اموال ( کا) دوسرا حصّہ یہ ہے کہ وہ اپنے اموال کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کو بھی حاصل کرے اس کے انعام اور فضل کا وارث بھی بنے یعنی اللہ تعالیٰ کی ہدایات کے مطابق قربانی کرے اور دوسروں کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کرے مگر یہ شخص اس دوسری ہدایت پر عمل نہیں کرتا اور اسراف کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی جو یہ ہدایت ہے کہ صرف اپنے حقوق لینے کی تمہیں اجازت ہے سوائے اس کے کہ جب ساروں کے حقوق ادا ہو جائیں پھر بھی اموال بچ جائیں اور اس دنیا میں ایسا ہو جاتا ہے پس اس صورت میں اس کو فرمایا کہ میں نے تمہارے لئے خرچ کی جو جائز راہیں کھولی ہیں ان پر تم اپنا روپیہ خرچ کر سکتے ہونا جائز یا حرام اخراجات کی اجازت نہیں دی جاسکتی یعنی کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اے میرے رب ! تو نے مجھے کمانے کی توفیق عطا کی تھی میں نے تیری اس توفیق کے نتیجہ میں ایک سال میں دس لاکھ روپیہ کمایا۔تو نے میرے حقوق قائم کئے تھے میں نے اپنے حقوق کے طور پر یا اپنے خاندان کے حقوق کے طور پر یا اپنے Dependents (ڈی پنڈنٹس) کے حقوق کے طور پر دولاکھ روپیہ خرچ کیا۔آٹھ لاکھ روپیہ جو بچ گیا تھا اس میں سے میں نے تیرے بندوں کے مطالبہ پر ( حکومت کے مطالبہ پر ) جن کا کام منصوبہ بنانا اور ساری قوم کا خیال رکھنا ہے چھ لاکھ رو پید ان کو دے دیا اور اس طرح کسی غیر کا کوئی حق میرے ذمہ باقی نہیں رہا کیونکہ میرے ذمہ جتنے بھی حقوق بنتے تھے وہ میں نے سارے کے سارے ادا کر دیئے۔اب دولاکھ روپیہ میرے پاس بچتا ہے مجھے اجازت دی جائے کہ جس طرح میں چاہوں اسے خرچ کروں ، چاہوں تو شراب پیوں ، عیش وعشرت میں اپنا وقت گزاروں یا نمائش کروں ، اسراف یا ریا سے کام لوں کیونکہ میرے جو حقوق تو نے قائم کئے تھے وہ مجھے مل گئے اور تیرے بندوں کے جو حقوق تھے وہ ان کو مل گئے اس لئے اس دولاکھ