خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 884
خطبات ناصر جلد دوم ۸۸۴ خطبہ جمعہ ۱۹ ستمبر ۱۹۶۹ء صفات کے جلوے دنیا کو ان کی زندگی میں اور ان کے نظام میں نظر آئیں تا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کے حسن اور اس کے احسان سے دنیا متعارف ہو جائے اور اس کی طرف کھنچی چلی آئے اور غیر اللہ کے سارے رشتے اس کے نتیجہ میں کٹ جائیں اور صرف خدائے واحد و یگانہ کے ساتھ تعلق اطاعت اور تعلق عبودیت اور تعلق غلامی قائم ہو اور قائم رہے۔یہ ذہنیت ہماری جماعت میں پیدا ہونی چاہیے اگر یہ ذہنیت ہماری جماعت میں پیدا نہ ہو اور اگر ہم انفرادی اور اجتماعی طور ( پر ) اللہ تعالیٰ کی رحمانیت کے جلوے دنیا کو نہ دکھا سکیں تو ہم اللہ تعالیٰ کی توحید کو بھی دنیا میں قائم نہیں کر سکتے جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے اور آپ نے فرمایا کہ اس کے علاوہ میری اور کوئی غرض نہیں کہ میں توحید باری قائم کرنا چاہتا ہوں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت قائم کرنا چاہتا ہوں۔رحیمیت کے جلوے بھی (جیسا کہ میں نے کہا ہے ) ہمیں دکھانے چاہئیں، مالکیت کے جلوے بھی ہمیں دکھانے چاہئیں۔اگر آپ غور کریں تو آپ بھی میری طرح اسی نتیجہ پر پہنچیں گے کہ اگر ہم اپنی زندگیوں میں اللہ تعالیٰ کی ان چاروں امہات الصفات کے جلوے دکھانے میں کامیاب ہو جائیں تبھی اور صرف اسی صورت میں ہم خدا تعالیٰ کی توحید کو دنیا میں قائم کرنے میں کامیاب ہوسکیں گے۔پس اللہ تعالیٰ کی توحید کے قیام کے سلسلہ میں ہماری ایک ذمہ داری تو یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی صفات کی معرفت حاصل کر کے اپنی زندگی میں ان صفات کو قائم کر دیں اور دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم دنیا میں اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوے اپنی زندگی میں دکھا کر دنیا کو اللہ تعالیٰ کے حسن و احسان کے جلوے دکھانے کے بعد اس کی معرفت کے حصول کا ذریعہ بنیں تا کہ اللہ تعالیٰ کی توحید قائم ہو۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے وہ عزت عطا کی ہے کہ انسان کا تصور بھی اس عظیم عزت کا احاطہ نہیں کر سکتا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو دنیا میں قائم کرنے کا یہ مطلب ہے کہ ہم آپ کے ہر قول اور ہر فعل کو عزت کی نگاہ سے دیکھیں۔آپ کے ہر قول کو اللہ تعالیٰ کے کلام یعنی قرآن کریم کی تفسیر سمجھیں اور آپ کے ہر فعل کو ایسا حسین سمجھیں کہ اس کو اپنے لئے اُسوہ اور ایک