خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 881
خطبات ناصر جلد دوم ΑΛΙ خطبہ جمعہ ۱۹ ستمبر ۱۹۶۹ء کے بعد کسی کے اعمال کا نکلتا ہے یعنی ایک استحقاق پیدا ہو جاتا ہے لیکن دنیا میں استحقاق پیدا ہونے کے باوجود وہ بدلہ نہیں ملتا جس کا وہ استحقاق مطالبہ کر رہا ہوتا ہے۔ہزاروں بی۔اے اور ایم۔اے مارے مارے پھر رہے ہیں اور انہیں کوئی پوچھتا نہیں۔ابھی کراچی کے قیام کے دوران مجھے ایک احمدی دوست نے بتایا کہ میں سڑک پر جارہا تھا کہ اچانک میری نظر سڑک پر کام کرنے والے مزدوروں پر پڑی۔وہ مزدور اِدھر اُدھر سے مٹی اُٹھا کر سڑک پر ڈال رہے تھے۔میں نے دیکھا کہ ان میں سے ایک مزور عام مزدوروں کی طرح کا نہیں۔اس میں کوئی ایسی بات پائی جاتی تھی کہ اس نے میری توجہ کو جذب کر لیا۔یہ مزدور مجھے پڑھا لکھا معلوم ہوتا تھا۔یہ ان کا تاثر تھا بہر حال انہوں نے مجھے بتایا کہ میں نے اپنی کارکھڑی کر لی اور اس مزدور کے پاس گیا۔میں نے اس سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ اس نے بتایا کہ میں بی۔اے پاس ہوں لیکن نوکری نہیں ملتی اس لئے میں نے سڑک کوٹنے یا سڑک پر مٹی ڈالنے کی مزدوری کر لی ہے۔پس اگر دنیا رحیمیت کے جلوؤں کے پر تو کے نیچے کسی طالب علم کو پاس کر دے ( یعنی کوئی مثلاً بی۔اے پاس کر لے ) تو کر دے لیکن ضروری نہیں کہ دنیا مالکیت يَوْمِ الدِّین کا نتیجہ ظاہر کرنے کی طاقت بھی رکھتی ہو۔خیر اللہ تعالیٰ نے اس احمدی افسر کے ذریعہ اپنی مالکیت کا جلوہ دکھانا تھا چنانچہ اُنہوں نے اس مزدور کو کہا کہ میں فلاں فیکٹری میں ہوں تم وہاں میرے پاس آجانا میں تمہارے لئے کوئی نوکری تلاش کروں گا۔چنانچہ وہ مزدور دوسرے دن ان کے پاس گیا اُنہوں نے اس کے لئے کوئی جگہ معلوم کرنے کی کوشش کی۔انہیں معلوم ہوا کہ اس وقت فیکٹری میں کوئی ایسی جگہ خالی نہیں جہاں کسی بی۔اے پاس کو لگایا جائے۔اس لئے انہوں نے اس کو ایک ایسے مزدور کی جگہ دلوا دی جس کو فیکٹری دس روپے یومیہ دیتی تھی۔ممکن ہے کہ وہ باہر تین چار روپیہ لے رہا ہو اور اس طرح اسے قریباً تین سوروپے ماہوار کی نوکری مل گئی۔غرض اللہ تعالیٰ صرف رحیم نہیں یعنی یہ نہیں کہ جو شخص امتحان دے وہ صرف اس کا نتیجہ نکال دے اور اسے پاس کر دے بلکہ وہ ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ ہے۔ویسے تو بندہ بڑا ہی عاجز ہے۔اللہ تعالیٰ ہی اپنی رحمت کے نتیجہ میں اس کی دعاؤں کو قبول کرتا اور اس کی کوششوں کو سرا ہتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ