خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 818
خطبات ناصر جلد دوم ΔΙΑ خطبه جمعه ۲۲ /اگست ۱۹۶۹ ء اور کبھی غیر اللہ کے سامنے جھکے تم نے کبھی خدا تعالیٰ پر توکل کیا اور کبھی اس کی مخلوق یعنی انسان وغیرہ کے آگے ہاتھ پھیلا دیا۔اس صورت میں یاد رکھو وَيْلٌ لِلْمُشرکین شرک خواہ کسی قسم کا ہی کیوں نہ ہو انسان کو اللہ تعالیٰ کے غضب اور اس کے قہر کا مورد بنا دیتا ہے تم اس سے بچتے رہو۔غرض اللہ تعالیٰ نے ان دو آیات میں ایک تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عظیم الشان اعلان کروایا کہ میں بھی تمہارے جیسا بشر ہوں۔بشر ہونے کے لحاظ سے مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں ہے۔اگر میں بشر ہونے کے باوجود مقترب الہی بن سکتا ہوں تو تمہارے لئے بھی یہ راہ کھلی ہے۔پس انسانی شرف اور اس کے احترام پر مشتمل اس حکیمانہ تعلیم کی موجودگی میں تم ایک لحظہ کے لئے بھی یہ کیسے سوچ سکتے ہو کہ تمہارے اور ایک غریب بھائی، تمہارے اور ایک ان پڑھ بھائی تمہارے اور ایک مسکین بھائی تمہارے اور ایک محروم بھائی تمہارے اور ایک سائل بھائی کے درمیان فرق ہے جسے تم اپنی عزت اور اپنے محتاج بھائی کی ذلت پر محمول کرتے ہو حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور آپ کے اسوۂ حسنہ کی روشنی میں تمہارے ذہن میں یہ بات ہی نہیں آنی چاہیے اور ہر انسان کی خواہ وہ اپنی زندگی میں کسی بھی ادنیٰ مقام پر تمہیں نظر کیوں نہ آئے اس کی عزت و احترام کرنی چاہیے۔اس کی ہمدردی اور خیر خواہی کرنی چاہیے اس کو اپنے سے کم تر اور ذلیل نہیں سمجھنا چاہیے۔اُسے بھائیوں کا سا درجہ دیتے ہوئے اپنے برابر بٹھانا چاہیے اور اسے یہ احساس دلانا چاہیے کہ تم بھی ہماری طرح معزز ہو۔پس ہمارے معاشرہ کا غریب اور کمزور حصہ اس حسنِ اخلاق اور اس حسن سلوک کا محتاج ہے وہ تمہارے پیار اور محبت کا بھوکا پیاسا ہے۔تم ان کی اس بھوک اور پیاس کو مٹانے کی کوشش کرو تا کہ خدا تعالیٰ اور اس کے رسول مقبول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ان کے دل میں جاگزیں ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ کی یہ تعلیم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اُسوہ حسنہ ہی انہیں متاثر کر سکتا ہے اسی طرح یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ دیکھو بشر کے مقام کو ایک جیسا کر کے اس میں اونچ نیچ نہ رکھ کر اس میں پہاڑیاں اور وادیاں نہ بنا کر خدا تعالیٰ نے تمام انسانوں کو ایک مقام پر لاکھڑا کیا ہے اس کی کوئی حکمت ہونی چاہیے، اس کی