خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 810 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 810

خطبات ناصر جلد دوم ۸۱۰ خطبه جمعه ۲۲ /اگست ۱۹۶۹ ء سے زیادہ قرب کسی اور فر د بشر کے لئے حاصل کرنا تو کیا اس جتنا بھی حصول ممکن نہیں چنانچہ آپ کی علو شان پر وہ حدیث قدسی بھی روشنی ڈالتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الْأَفُلَاكَ یعنی اے رسول ! اگر تیرا وجود پیدا نہ کرنا ہوتا ، اگر تجھے دنیا کے لئے نمونہ نہ بنانا ہوتا تو میں مخلوق ہی پیدا نہ کرتا۔پس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ اعلان کروایا کہ میں بھی تمہارے جیسا بشر ہوں تمہارے جیسا انسان ہوں ، جہاں تک انسانی عزت ، شرف اور مرتبہ کا سوال ہے مجھ میں اور تم میں کوئی فرق نہیں کیونکہ جس طرح میں احسنِ تقویم یعنی بشریت کے لحاظ سے مٹی کا ایک پتلا ہوں اسی طرح تم بھی مٹی کے پتلے ہو، جس طرح میں اشرف المخلوقات کا ایک فرد ہوں اسی طرح تم بھی اشرف المخلوقات کے فرد ہو جس طرح میں سیر روحانی میں بلند سے بلند درجات پاسکتا ہوں اسی طرح تم بھی بلند سے بلند در جے حاصل کر سکتے ہو اور یہ کہہ کر ایک طرف دنیا میں انسانی عزت اور شرف کو قائم کیا اور دوسری طرف ہر فرد بشر کو اس طرف بھی متوجہ کیا کہ آخر میں بھی تمہاری طرح ایک بشر ہوں۔اگر مجھے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بلند سے بلند مقام حاصل ہوسکتا ہے تو تمہیں بھی بلند درجہ کیوں نہیں حاصل ہو سکتا۔تم بھی خدا کی راہ میں مخلصانہ کوششیں کرو، سچی قربانیاں دو حقیقی مجاہدہ اختیار کرو، جذ بہ فدائیت اور عاشقانہ ایثار کے نمونے پیش کرو خدا تعالیٰ تم سے بھی پیار کرنے لگ جائے گا ، تم بھی اپنی اپنی استعداد کے مطابق اللہ تعالیٰ کی محبت اور رضا کو حاصل کر لو گے۔اب اگر جیسا کہ اعلان کیا گیا ہے اشرف المخلوقات کا فرد ہونے کے لحاظ سے ہر انسان کا مقام اتنا بلند ہے تو ظاہر ہے کہ ہم پر کس قدر اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔آج دنیا ایک دوسرے کی عزت اور ایک دوسرے کا احترام کرنے کا سبق بھول چکی ہے۔جو شخص امیر بن جاتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ کچھ مال دے دیتا ہے ( جو دراصل اس کے امتحان کے لئے ہوتا ہے ) تو وہ سمجھنے لگ جاتا ہے کہ میرا رب میری کچھ خوبیاں دیکھ کر مجبور ہو گیا تھا کہ مجھے مال عطا کرے اور دنیوی نعمتوں سے نوازے وہ یہ نہیں سمجھتا کہ مال دے کر دراصل میرا امتحان لیا جا رہا ہے بلکہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ میرا مال و دولت میری عزت و احترام کی نشانی ہے اس لئے اپنے سے کم تر آدمی کو حقیر