خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 795
خطبات ناصر جلد دوم ۷۹۵ خطبه جمعه ۸ راگست ۱۹۶۹ء پہنچانے ، پہچان کر جماعت میں داخل ہو یا جماعت میں پیدا ہو کر آپ کو پہچانے اور پھر اس کے دل میں یہ خیال پیدا کیا کہ ایک دین سکھانے کی کلاس ہے وہاں تم جاؤ اور ا کٹھے ہو۔میں نے ایک جلوہ کہا تھا لیکن حقیقتا یہ بہت سے جلوؤں کا مجموعہ ہے بہر حال اللہ تعالیٰ کا یہ جلوہ نہ ہوتا یعنی اس کی صفات میں سے ایک صفت کا یہ جلوہ نہ ہوتا تو ہم یہاں اکٹھے نہ ہوتے۔ہر چیز موجود ہے ہر چیز جو زندہ ہے وہ ترقی کی طرف جارہی ہے یا تنزل کی طرف مائل ہے وہ جوانی کی طرف بڑھ رہی ہے یا موت کی طرف چل رہی ہے وہ ہر حالت میں خدا تعالیٰ کی کسی نہ کسی صفت یا صفات کا جلوہ یا جلوے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان جلوؤں میں کسی غیر کو شریک نہ کرنا۔اسلام نے بڑی تفصیل سے یہ بات بیان کی ہے یہ نہیں کہ خلق کے لئے تو اللہ کے جلوے کی ضرورت ہے لیکن تن ڈھانکنے اور پیٹ بھرنے کے لئے مارکسن اور سٹالن اور لینن کے جلوؤں کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سے یہ منوانا نہیں چاہتا بلکہ ہر کام کے لئے ہر چیز کے حصول کے لئے ، ہر نیک خواہش کے پورا ہونے کے لئے ، ہر ضرورت کے مل جانے کے لئے اللہ تعالیٰ کی کسی صفت کے جلوے کی ضرورت ہے وہ جلوہ نہ ہو تو ہماری خواہش اور ہماری ضرورت پوری نہیں ہوسکتی۔توحید کے اوپر قائم کرنا چاہیے۔ہر رنگ میں اور ہر طریق پر توحید حقیقی کو بیان کر کے اور انگلی نسل کو اس بات پر پختگی سے قائم کر دینا چاہیے کہ خدا کی ذات وصفات میں کوئی شریک نہیں اور خدا ہی واحد و یگانہ سب قدرتوں اور سب طاقتوں کا مالک ہے۔اسی کے جلوے ہمیں مادی شکل میں نظر آتے ہیں سورج کی روشنی اسی کے نور کی ایک جھلک ہے، چاند کی چاندنی اس کے حسن کا جلوہ دکھا رہی ہے، پانی میں زندگی اسی کی صفت حی" کا ایک جلوہ ہے اور پھر انسان کا باقی رہنا اور صحت کے ساتھ باقی رہنا اس کی قیومیت کا مظاہرہ ہے غرض ہر چیز خواہ کسی شکل میں اور کسی رنگ میں ہمارے سامنے آئے وہ اللہ تعالیٰ کی صفت ہی ہے جو اس رنگ میں اور اس شکل میں ہمارے سامنے آئی۔اللہ تعالیٰ کی اس معرفت اور اس عرفان کے بعد محبت کا ایک بیج بچہ کے دل میں بویا جاتا ہے پھر وہ اپنی استعداد کے مطابق اس بیج کو بڑھانے میں خدا تعالیٰ کی توفیق سے کامیاب ہوتا اور