خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 704
خطبات ناصر جلد دوم ۷۰۴ خطبہ جمعہ ۲۷/جون ۱۹۶۹ء یا یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ ٹھیک ہے۔سچی صحیح گل پر دیکھونا بڑی مجبوریاں ہو جاندیاں نہیں‘ان مجبوریوں سے قتل بھی ہو جاتے ہیں، چوریاں بھی ہو جاتی ہیں ، ڈا کے بھی پڑ جاتے ہیں اور حق تو وہ مان رہا ہوتا ہے۔پس تو حید علمی یہ تھی کہ حقوق ادا ہونے چاہئیں توحید عملی یہ ہے کہ حقوق ادا ہونے شروع ہو جائیں۔یہ دیکھ کر کہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے انسانوں کے مجھ پر حقوق عاید کئے ہیں وہ ان حقوق اور ذمہ داریوں کو بجالائے اور اصلح طریق سے بجالائے یعنی اس کے نتیجہ میں دوسرے کی قوتوں کی بہترین نشو ونما ہو سکے اور موحد کی ان حقوق کے ادا کرنے میں یہ غرض نہیں ہوتی کہ دنیا میں اس کی نیک نامی ہو ، لوگ واہ واہ کہیں ، تالیاں بجا ئیں نعرے لگا ئیں ، دنیوی طور پر اس کی وجاہت ہو جائے یہ نہیں بلکہ موحد کی صرف یہ غرض ہوتی ہے کہ اس کے اخلاق سراسر خدا تعالیٰ کے اخلاق میں فانی ہو جائیں اور فَنَا فِي اخْلَاقِ اللہ کا مقام اسے حاصل ہو جائے اور اللہ تعالی نے اپنے بندوں کے، اپنی مخلوق کے جو حقوق قائم کئے ہیں صفات باری تعالیٰ کے پرتو کے نیچے آکر بہتر طریق پر وہ حقوق ادا ہو جائیں اور ہر فرد کی سب قو تیں اور استعداد میں اسی طرح سب اقوام عالم کی قوتیں اور استعداد میں اپنے نشو ونما میں اپنے کمال تک پہنچ جائیں۔پس عبادت کا تیسرا تقاضا یہ تھا کہ تَخَلُقُ بِأَخْلَاقِ اللهِ ہو۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں رب العلمین ہوں میں نے اپنی مخلوق پیدا کی ان کے اندر کچھ قو تیں پیدا کیں اور یہ اصول قائم کیا کہ تدریجی ارتقا کے ذریعہ یہ قوتیں اور استعدادیں اپنے نشوونما کے کمال کو پہنچ جائیں۔اس میں تدریجی ارتقا کے لئے اور دائرہ استعداد کے اندر کمال تک پہنچنے کے لئے جس جس چیز کی ضرورت تھی وہ میں نے پیدا کر دی اگر کسی کو وہ چیز نہیں ملتی تو اس کا حق مارا گیا۔پھر جو دوسرا اقتصادی تقاضا ہے ( ہم اقتصادیات کی بات کر رہے ہیں ) وہ یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت کر و نظام اقتصادیات میں جن چیزوں سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے وہ نہ کرو۔اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو یہ جو چرس کا مطالبہ ہے یا یہ بجوئے کی کھیلیں ہیں امریکہ ہی میں لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں ان کے اڈے ہیں۔پس یہ اقتصادی مطالبہ بڑی بھاری اکثریت کا ہے کہ ہمیں ہماری Entertainment