خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 666 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 666

خطبات ناصر جلد دوم ۶۶۶ خطبہ جمعہ ۶ جون ۱۹۶۹ء کرتے ہوئے یا غفلت کی وجہ سے یا بعض دفعہ جان بوجھ کر خدا کے قانون کو توڑتے ہوئے وہ خود بیمار ہوتا ہے اس کے باوجود اس غافل انسان کی صحت کی ذمہ داری اسلام کے اقتصادی نظام نے اپنے ذمہ لی ہے صرف کپڑا اور روٹی اور مکان اور یہ دوائیاں وغیرہ جو ہیں ان کو ہی ضرورت نہیں سمجھا گیا بلکہ ہر وہ چیز جس کی انسانی قوتوں اور استعدادوں کی حفاظت اور نشود نما اور ان کو کمال تک پہنچانے کے لئے ضرورت ہے اسلام کہتا ہے کہ وہ چیز مہیا ہونی چاہیے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ بعض بچے بڑے ذہین ہوتے ہیں ( میں ایک ہی مثال دوں گا ورنہ یہ مضمون بڑا لمبا ہو جائے گا) اور ان کے ذہنی نشوونما میں گندی سوسائٹی اور گندا ماحول روک بن جاتا ہے اسلام کا نظام (اسے آپ اقتصادی نظام یا معاشرتی نظام کہہ لیں کیونکہ یہ ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہیں ) یہ کہتا ہے کہ اس کی قوتوں اور استعدادوں کی نشونما میں بُری صحبت روک بن رہی ہے اس لئے یہ روک دور کرو۔اللہ تعالیٰ نے سارے معاشرے کو یہ تعلیم دی ہے کہ وہ ایک دوسرے کی نگرانی کرنے والے ہوں۔چھوٹی جماعتوں میں عام طور پر زیادہ خرچ نہیں ہوتا ماں باپ اتنا بوجھ برداشت کر سکتے ہیں لیکن بسا اوقات ایک بچے کو پوری غذا میسر نہیں آرہی ہوتی لیکن وہ بڑے اچھے نمبر لے کر دسویں جماعت پاس کر لیتا ہے اس کا دماغی رجحان ڈاکٹر بنے کا ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ باوجود بچے کی طبیعت کے اس رجحان کے اکثر والدین اس کو آرٹس کی طرف کیوں لے جاتے ہیں میرے ذاتی علم میں بعض ایسی مثالیں ہیں کہ ماں باپ نے یہ سوچا کہ بچہ کا رجحان تو میڈ یکل لائن اختیار کرنے کا ہے جس کے بعد وہ میڈیکل کالج میں داخل ہوسکتا ہے لیکن اگر سائنس کے مضمون لے تو خرچ زیادہ آئے گا اس لئے اس کو آرٹس کی طرف لے جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ ظلم ہے اسے ذہنی طور پر ڈاکٹر بننے کے لئے پیدا کیا گیا تھا اسے وہ تمام سہولتیں میسر آنی چاہئیں جن کی بنا پر وہ ڈاکٹر بن سکے۔پھر میں نے کالج میں دیکھا ہے بعض لڑکے بڑے ذہین ہوتے ہیں بڑے محنتی ہوتے ہیں لیکن جو انہیں کھانے پینے کے لئے میٹر آتا ہے اس سے وہ اپنی صحت کو برقرار نہیں رکھ سکتے کمزور