خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 659
خطبات ناصر جلد دوم ۶۵۹ خطبه جمعه ۳۰ رمئی ۱۹۶۹ء یقیناً ہمیں ایک دوسرے سے معاملہ کرنا پڑے گا۔۔جب ہم ایک دوسرے سے معاملہ کریں گے تو پھر معاوضہ کا سوال پیدا ہو جائے گا۔اگر کسی کا وقت لیا ہے تو یہ سوال پیدا ہو گا کہ اس کو اُجرت کتنی دینی ہے اور اگر اس کی مثلاً کپڑا بننے کی استعداد نے ہماری مدد کی ہے تو یہ سوال پیدا ہو گا کہ اس کی قیمت کیا دینی ہے۔غرض معاونت کے نتیجہ میں معاوضہ کی ادائیگی کا سوال پیدا ہو جاتا ہے۔رہے ۴۔اب ایک اقتصادی سوال ہے لیکن دنیا دارد نیا میں غرق ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے غافل ہوتا ہے اس لئے یہ خطرہ پیدا ہو جاتا ہے کہ اگر اس معاوضہ کی ادائیگی کو انسان پر ہی چھوڑا جائے تو حقوق تلف ہو جا ئیں گے اور یہ خطرہ معمولی نہیں بلکہ بڑا بھاری خطرہ ہے۔چونکہ انسان اکثر غفلت کے پردوں میں اپنی زندگی کے دن گزارتا ہے اور خدا تعالیٰ کے قرب کی راہوں کو تلاش کرنے کے لئے کوشش نہیں کرتا اس لئے انسان کی عقل اور اس کی قوت منتظمہ پر اس معاملہ کو چھوڑنے کے نتیجہ میں ایک بھاری خطرہ پیدا ہو جائے گا کہ بہت سوں کے حقوق تلف ہو جائیں گے۔ان حقوق کو تلف ہونے سے بچانے کے لئے ایک ایسے منصفانہ قانون کی ضرورت ہے جو حق وصداقت پر قائم ہونے کی وجہ سے انسان کو ظلم اور تعدی اور بغض اور فساد اور غَفْلَت مِنَ اللہ سے روکتار تا انسانی معاشرہ اور نظام اقتصادیات میں ابتری اور فساد واقع نہ ہو پس چونکہ حقوق کے تلف ہونے کا خطرہ تھا اس لئے اس خطرہ کو دور کرنے کے لئے ہماری عقل بھی یہ کہتی ہے کہ ایک ایسا قانون ہونا چاہیے جو انصاف اور حق و صداقت پر قائم ہو اور انسان کو ظلم کی راہیں اختیار کرنے اور تعدی کی راہیں اختیار کرنے ، بغض و فساد کی راہیں اختیار کرنے اور اللہ تعالیٰ سے دور لے جانے والی راہوں کو اختیار کرنے سے رو کے اس کے بغیر صحیح اور ہر ایک کی تسلی کرنے والا نظامِ زندگی یا نظامِ اقتصادیات قائم نہیں کیا جاسکتا۔۵۔معاش اور نظام زندگی اور معاد اور فلاح اُخروی کا تمام مدار انصاف اور خداشناسی پر ہے۔دونوں چیزوں کو اللہ تعالیٰ ہمیشہ اکٹھا رکھتا ہے۔یعنی حقوق العباد اور حقوق اللہ دونوں اکٹھے ہی رکھے گئے ہیں کیونکہ اصل غرض حقوق اللہ کی ادائیگی ہے، اللہ کو راضی کرنا ہے اور اس کی ایک راہ یہ ہے کہ