خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 609
خطبہ جمعہ ۲ رمئی ۱۹۶۹ء خطبات ناصر جلد دوم کر رہے۔ہمارے ملک میں بھی اور بعض اور ملکوں میں بھی سفارش کی لعنت پیدا ہوگئی ہے اور جس ملک کے فیصلوں کی بنیاد حق و انصاف کی بجائے سفارشوں پر ہو میرے نزدیک خدا ایسے حالات میں اس ملک کو ترقی نہیں دے سکتا۔احمدیوں کا یہ فرض ہے کہ وہ خود بھی عمل کریں اور دوسروں کو بھی سمجھا ئیں کہ حق کے بغیر کوئی چیز لینے کی کوشش نہ کریں اور نہ اس کی خواہش کریں اور دعاؤں پر زور دیں۔یہ صحیح ہے کہ جب تک سفارش کا کلی طور پر قلع قمع نہیں کیا جاتا اس وقت تک جائز حقوق کے حصول کے لئے بھی سفارش کی ضرورت پڑے گی اور یہ قوم کی بدقسمتی ہے لیکن پوری کوشش کرنی چاہیے کہ سفارشات سے بچا جائے۔یہ قومی فریضہ ہے ( آگے چل کر میں بتاؤں گا کہ اللہ تعالیٰ نے قومی فرائض یا بین الاقوامی فرائض کی ادائیگی پر کس رنگ میں زور دیا ہے ) خصوصاً جو ہماری اگلی نوجوان نسل ہے اس کے اندر تو یہ چیز داخل کر دینی چاہیے کہ نہ وہ سفارش کریں گے اور نہ سفارش کو برداشت کریں گے ہمارے فیصلے حق و انصاف پر ہونے چاہئیں۔سفارشوں پر ہمارے فیصلے نہیں ہونے چاہئیں اور نہ رشوت پر۔گیارہویں معنی دین کے جزا اور بدلہ کے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بدلہ لینے اور بدلہ دینے یعنی جزا وسزا کے میدان میں جو ہمارے فیصلے ہیں اور اعمال جو اس سے تعلق رکھتے ہیں وہ خالصۂ اللہ کے لئے ہونے چاہئیں۔جزا لینا اور جزا دینا دونوں باتیں اس کے اندر آ جاتی ہیں دونوں میں مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین کی ذہنیت پیدا ہونی چاہیے۔ہمارا جو سلوک اپنے انسان بھائیوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق ہوتا ہے۔دنیا اسے احسان کہتی ہے لیکن اسلام کہتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ احسان نہیں ہے۔اسلام نے احسان کے لفظ کو اپنی ایک اصطلاح مقرر کر کے اس میں استعمال کیا ہے اس لئے کسی کے ذہن میں خلط نہ ہو۔احسان کے جو معنی دنیا لیتی ہے اس معنی میں اسلام حسن سلوک کر نے والے کے لئے احسان کا لفظ استعمال نہیں کرتا۔وہ جزا لینے سے انکار کی ذہنیت پیدا کرتا ہے یعنی ایک سچا مسلمان یہ کہتا ہے کہ میں بدلہ نہیں لوں گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارے بدلہ اور جزا لینے سے متعلق اعمال