خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 579 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 579

خطبات ناصر جلد دوم ۵۷۹ خطبه جمعه ۱۸ ر ا پریل ۱۹۶۹ ء کی جنت ملتی ہے مگر وہ بد قسمت اور بد بخت گروہ جو اپنے رب کی عظمت اور اس کے جلال کو پہچانتا نہیں وہ اپنی مرضی سے اور اس اختیار سے جو اللہ تعالیٰ نے اسے دیا ہے اللہ تعالیٰ کے احکام کے ایک حصہ کو بظاہر توڑتا ہوا نظر آتا ہے لیکن دراصل وہ اسے تو ڑ نہیں رہا دراصل اس کے سامنے دو راستے ہیں ان دونوں راستوں میں سے غلط راستہ کو جو مستقیم نہیں وہ اختیار کرتا ہے لیکن پہنچتا وہیں ہے جہاں اسے یہ غلط راستہ پہنچاتا ہے یعنی دوزخ میں۔یہ نہیں کہ وہ غلط راستہ پر چلنا شروع کر دے اور اسی غلط راستہ کو مجبور کرے کہ وہ اسے جنت تک پہنچا دے۔یہ بات ہمیں نظر نہیں آتی۔غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم میرے اوامر کو اور میرے نواہی کو خالصہ میرے لئے قائم کرو۔دنیا میں میری عظمت اور جلال کو قائم کرو، میرے اوامر و نواہی کو اپنے معاشرہ میں اور اپنی زندگیوں میں قائم کرو اور اس محاذ پر جو طاقتیں حملہ آور ہوں میرے فدائی بن کر ان کا مقابلہ کرو۔یہ حملے دو طرح کے ہوتے ہیں ایک اندرونی ایک بیرونی۔تم ان دونوں کا مقابلہ کرو۔پس کہا مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ جہاں تک میرے احکام ، اوا مرونواہی کا تعلق ہے تم اخلاص کے ساتھ اور محض اللہ کے لئے ان کو اپنی زندگیوں میں قائم کرو تو تم میری عبادت بجالانے والے ہو گے ورنہ نہیں۔نفس کی خواہشات ہیں جن کو ہم ہوائے نفس کہتے ہیں۔ہستیاں ہیں غفلتیں ہیں بے اعتنائی ہے۔عظمت باری ہے اور جلال باری کے احساس کا فقدان یا اس کی کمی ہے۔یہ ساری چیزیں انسان کو خدا تعالیٰ کے فرمودہ کے خلاف اور اس کے احکام کے خلاف لے جاتی ہیں۔پس خدا نے کہا کہ میں نے تمہیں اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے اور اس بات کا تقاضا یہ ہے کہ معاشرہ کے متعلق اقتصادیات کے متعلق ، سیاست کے متعلق یا جس دائرہ کے اندر بھی تمہیں غلبہ ملے یا تمہیں راعی بنے کی توفیق ملے اس کے اندر میر احکم جاری ہونا چاہیے۔اگر تم اس دائرہ میں میرے حکم کے اجرا کی کوشش کرو گے تو تم میرے بچے اور حقیقی عبادت گزار بندے بنو گے ورنہ نہیں بنو گے۔پس پانچواں تقاضا اللہ تعالیٰ کی عبادت کا جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں پیدا کیا ہے یہ ہے کہ اس کے حکم کو ہم قائم کرنے والے ہوں اور اوامر و نواہی کی نگرانی کرنے والے ہوں کہ