خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 570 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 570

خطبات ناصر جلد دوم ۵۷۰ خطبہ جمعہ ۱۱/را پریل ۱۹۶۹ء کے نتیجہ میں ماں باپ کی اطاعت کرتا ہے اور اس اطاعت اور فرمانبرداری اور اس ادب و احترام کے پیچھے یہ روح کام نہیں کر رہی ہوتی کہ میرا باپ مجھے مال دے گا یا ورثہ میں شاید مجھے دوسرے بھائیوں سے زیادہ حق دے دے بلکہ روح یہ ہوتی ہے کہ میرا رب کہتا ہے کہ اپنے ماں باپ کی اطاعت کرو، ادب و احترام کرو اس لئے میں اطاعت کر رہا ہوں تو پھر اس کو ثواب ملے گا۔بعض جاہل ماں باپ اس سلسلہ میں اپنی اولاد کو امتحان میں بھی ڈالتے ہیں کہتے ہیں شرک کرو۔خدا کہتا ہے کہ اگر ماں باپ کہیں کہ شرک کرو تو شرک نہیں کرنا ایسی اطاعت نہیں کرنی ان کے ساتھ نرمی ، محبت اور پیار کا سلوک کرنا ہے۔ادب و احترام کرنا ہے لیکن ماں باپ کے کسی ایسے حکم کی اطاعت نہیں کرنی جو اللہ تعالیٰ کے احکام کے خلاف ہو اور اس کی ناراضگی مول لینے والا ہو۔پس مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین میں اگر الدین“ کے معنی اطاعت کے کئے جائیں تو اس کا مفہوم یہ نکلے گا کہ ہم نے انسان کو اس لئے پیدا کیا کہ وہ ہماری عبادت کرے۔اللہ اور اس کے بندوں کی اطاعت و فرمانبرداری صرف اس لئے ہو کہ اللہ کی رضا کو حاصل کرنا ہے۔اللہ کی فرمانبرداری اس لئے نہ ہو کہ دنیا ہمیں بڑا بزرگ سمجھے گی اور بندے کی فرمانبرداری اس لئے ہو کہ خدا کہتا ہے کہ اس کی فرمانبرداری کرو۔اگر وہ قادر و توانا کہتا ہے کہ ان کی فرمانبرداری نہ کرو تو نہیں کریں گے۔ماں باپ کی بھی اطاعت نہیں کریں گے اگر وہ معروف کا حکم نہ دیں اگر وہ شرک کی طرف لے جائیں۔اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اسی کے لئے ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اس کے ایک معنی مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین میں ہمیں یہ بتائے گئے ہیں کہ اللہ کے اخلاق کا رنگ اپنے پر چڑھاؤ کیونکہ دین کے معنی سیرت کے ہیں تو مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین کے معنی ہوں گے کہ اپنی صفات پر صفات باری کا رنگ چڑھاؤ اور ان کے اظہار کو محض اللہ کے لئے اسی کی سیرت میں اور اسی کی صفات سے رنگین ہو کر کرو۔گویا اس میں تَخَلَقُوا بِأَخْلَاقِ اللهِ “ کا مفہوم ہے کہ اللہ کے اخلاق اور اس کی صفات کا رنگ اپنی سیرت اور اخلاق پر چڑھاؤ۔مثلاً اگر تم اپنے اخلاق پر مغربیت کا رنگ چڑھاؤ گے، اگر تم اپنے نفس پر اسراف کرنے والوں کا رنگ چڑھاؤ گے۔اگر تم اپنے نفس پر بخل کرنے والوں کا رنگ چڑھاؤ گے تو پھر تم خدا کی خالص عبادت کرنے والے نہیں۔تمہارا تعلق