خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 528
خطبات ناصر جلد دوم ۵۲۸ خطبه جمعه ۲۸ فروری ۱۹۶۹ء کے لئے ان کا احاطہ کئے ہوئے ہے وہ ان پر اپنا غضب نازل کرتا ہے اور اس طرح انہیں پھر واپس لے آتا ہے۔یہ دوسری قسم قرب کی گو صرف انسان سے تعلق رکھتی ہے لیکن ایک ایسے بد بخت انسان سے تعلق رکھتی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تو اپنی رحمت میں زندگی گزارنے کے لئے پیدا کیا تھا لیکن وہ ناشکری اور نا قدری کرتے ہوئے جاہلانہ راہوں کو اختیار کرتا اور بعد اور دُوری کے راستوں پر چل پڑتا ہے۔پس گو یہ قرب صرف انسان سے تعلق رکھتا ہے لیکن اس قرب کی وجہ سے نہ کوئی انسان خوش ہوسکتا ہے اور نہ اس کے لئے یہ کوئی فخر کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اس لئے اس کے قریب آیا کہ اس کے غضب کا کوڑا اس پر بر سے۔لیکن یہ قرب ضروری تھا کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ظاہر نہ ہوتی تو انسان کو یہ علم نہ ہو سکتا کہ کن باتوں کی وجہ سے خدا تعالیٰ ناراض ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں انسان اس کی رحمت سے محروم ہو جاتا ہے۔تیسری قسم کا قرب رحمت کا قرب ہے جب اللہ تعالیٰ انسان سے پیار کرنے کے لئے اس کے قریب آجاتا ہے اور اسے اپنا دوست بنالیتا ہے اسے اپنا محبوب بنالیتا ہے اور اس کے لئے دنیا میں انقلابات عظیمہ پیدا کرتا ہے جو دنیا کے دلوں میں تبدیلی پیدا کر کے انہیں غلاموں کی طرح دوڑاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی طرف بھیج دیتے ہیں۔اس قرب کے مختلف مدارج ہیں اور اس کی ایک بڑی نشانی یہ ہے کہ اس قسم کا قرب پانے والے انسان پر صرف اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے کے جلوے ہی ظاہر نہیں ہوتے بلکہ اس پر اس کے مجیب ہونے کے جلوے بھی ظاہر ہوتے ہیں۔پس یہ قرب اللہ تعالیٰ کی رحمت کا قرب ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی قریب اور مجیب صفات کے جلوؤں کا مقرب ہے یعنی اللہ تعالیٰ انسان کے قریب بھی ہوتا ہے اور یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ میں مجیب ہوں۔میں نے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا کی ہر شے کے قریب ہے لیکن انسان کے علاوہ جو مخلوق ہے جو ذی شعور نہیں ان کو یہ علم نہیں کہ ان کے اندر خدا تعالیٰ کا نور بھی جلوہ گر ہے اس کا حسن بھی جلوہ گر ہے اس کی ربوبیت بھی جلوہ گر ہے، اس کی خالقیت بھی جلوہ گر ہے، اس کی قیومیت بھی جلوہ گر ہے۔اللہ تعالیٰ ان کے قریب تو ہے لیکن ان پر اللہ تعالیٰ کی صفت مجیب کا جلوہ ظاہر کرنے کی