خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 496
خطبات ناصر جلد دوم ۴۹۶ خطبہ جمعہ ۷ رفروری ۱۹۶۹ء اس چیز کو ہمارے نفوس پر اور ہمارے ذہنوں پر واضح کرنے کے لئے بتایا کہ جب اللہ تعالیٰ تمہاری مددکو آتا ہے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت اس کی مرضی کے بغیر اور اس کے مقابلہ پر کھڑے ہو کر اس کی مخالف بن کر کامیاب نہیں ہو سکتی۔چنانچہ سورۃ فاطر میں فرماتا ہے۔وَمَا كَانَ اللهُ لِيُعْجِزَهُ مِنْ شَيْءٍ فِي السَّمَوتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ إِنَّهُ كَانَ عَلِيمًا قَدِيرًا (فاطر: ۴۵) یعنی جب اللہ تعالیٰ ولی بنتا ہے تو اس کا عبد اور اس کا غلام اس پر اس لئے بھروسہ کرتا ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارادہ کو زمین و آسمان میں کوئی چیز نا کام نہیں کر سکتی کیونکہ إِنَّهُ كَانَ عَلِيمًا قَدِيرًا اس کے علم اور اس کی قدرت نے ہر شے کا احاطہ کیا ہوا ہے۔کوئی خفیہ وار اللہ تعالیٰ پر نہیں کیا جاسکتا اور کوئی بھر پور کامیاب وار بھی اللہ تعالیٰ پر نہیں کیا جا سکتا۔خفیہ وار تو اس پر اس لئے نہیں کیا جا سکتا کہ وہ علیم ہے اور کامیاب وار اس لئے نہیں کیا جا سکتا کہ وہ قدیر ہے۔وہ سب قدرتوں کا مالک ہے کوئی وجود یا لوگوں کا کوئی مجموعہ اور جماعت ایسی نہیں ہو سکتی جو خدا تعالیٰ سے چھپ کر خفیہ سازشوں کے نتیجہ میں اس کے ارادوں میں خلل ڈالے اور انہیں نا کام کر دے اور نہ دنیا میں کوئی ہستی ایسی ہے اور نہ ساری دنیا ( مجموعی طور پر ) میں ایسی طاقت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بھئی کا فیصلہ کرے تو اس کے فیصلہ میں روک بن جائے یا جب وہ اپنی جماعت کی حفاظت پر کھڑا ہو جائے تو وہ کامیاب وار اس کی جماعت کے خلاف کرے۔وہ قدیر ہے اس کی قدرت نے ہرشی کا احاطہ کیا ہوا ہے۔اس کی مرضی کے بغیر کوئی چیز ہونہیں سکتی اور چونکہ وہ علیم اور قدیر ہے اس لئے کوئی تدبیر اس کی تدبیر کے خلاف کامیاب نہیں ہو سکتی اور جس کی تدبیر کے خلاف کوئی تدبیر کامیاب نہ ہو سکے اسی کے متعلق ہم کہہ سکتے ہیں کہ فَنِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ النَّصِيرُ (الحج: ۷۹ ) وہ سب سے اچھا آقا، سب سے بہتر دوست ہے اور سب سے زیادہ ناصر و مددگار اسی کی ذات ہے اور اسی پر خدا کے بندے اور خدا کی جماعتیں بھروسہ کیا کرتی ہیں۔ہمارے جسم انسانی جذبات کی وجہ سے دکھ تو اُٹھاتے ہیں اس سے وہ بچ نہیں سکتے لیکن ہمارے سینوں میں بزدلی کے خیالات نہیں آتے۔ہمارے سینوں میں مایوسی کے خیالات نہیں آتے۔ہمارے دلوں میں اپنے رب کے خلاف بدظنی کے خیالات نہیں پیدا ہوتے۔ہمارے دل زخمی تو ہوتے ہیں مگر ہمارے سینے اللہ تعالیٰ کے نور اور اس