خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 476 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 476

خطبات ناصر جلد دوم خطبہ جمعہ ۱۷؍جنوری ۱۹۶۹ء فدائیوں کے ساتھ کمزور ایمان والوں کا جو گروہ شامل ہو گیا تھا اور کمزور ایمان والوں میں سے بھی وہ جو يُسَارِعُونَ فِي الْکفیر کے مظاہرے کرتے تھے ان کا تعلق ایسے گروہوں کے ساتھ تھا کہ جو مسلمان نہیں تھے لیکن بظاہر شوق سے اسلام کی باتیں سنتے تھے اور نیت یہ ہوتی تھی کہ کچھ جھوٹی باتیں لیں اور پھیلائیں اور کچھ کچی باتیں لیں اور ان کا غلط مفہوم لے کر اسے بگاڑ کے لوگوں کے سامنے پیش کریں تا کہ اسلام اعتراض کا نشانہ بنے اور وہ لوگ جو اسلام کی طرف مائل ہو رہے ہیں ان کے راستہ میں ایک روک پیدا ہو جائے اور اسلام کی فتح اور کامیابی کا زمانہ جو ہے وہ آئے ہی نہ یا اس میں تاخیر ہو جائے۔بہر حال ان کی نیتیں اور ان کی خواہشیں اور ان کی کوششیں تو یہی ہوتی تھیں کہ اسلام کامیاب نہ ہو، نا کام رہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے منافقوں کی ایک علامت یہ بھی ہوتی ہے کہ ان کا تعلق فتنہ پیدا کرنے والے غیر مسلموں کے ساتھ ہوتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہی تھا۔ایسے کمزوروں کا تعلق فتنہ پرداز غیر مسلموں کے ساتھ تھا۔یہاں مثال کے طور پر یہود کا ذکر ہے لیکن جب ہم اسلامی تاریخ کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت اسلام پھیلا تو جب قیصر مقابلہ پر آیا عیسائیوں میں ایسے لوگ ہمیں نظر آتے ہیں جب کسرای مقابلہ میں آیا تو ایرانیوں میں ایسے لوگ تھے جو اس نیت کے ساتھ مسلمانوں سے تعلق پیدا کرتے تھے کہ کمزور مسلمانوں سے فائدہ اُٹھا ئیں اور غلط باتیں مشہور کر کے اسلام کو کمزور اور نا کام کرنے کی کوشش کریں۔مثال کے طور پر یہاں یہود کا ذکر ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان مفسدین کا اصل مقصد اسلام میں کمزوری پیدا کرنا ہوتا ہے اور یہ لوگ دو طریق اختیار کرتے ہیں۔ایک اندرونی فتنہ کا اور ایک بیرونی فتنہ کا۔بیرونی طور پر تو جھوٹی باتیں یا آیات قرآنی کا مفہوم غلط بیان کر کے اسلام کو اعتراض کا نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور اندرونی طور پر اطاعت کی روح کو کمزور کرتے ہیں۔اطاعت کی روح سَبْعًا وَطَاعَةً ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد نازل ہوتا تھا۔آپ اس پر عمل کرتے تھے اور جس طرح اور جس رنگ میں آپ اس پر عمل کرتے تھے اپنے ماننے والوں سے یہ توقع اور امید