خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 422 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 422

خطبات ناصر جلد دوم ۴۲۲ خطبہ جمعہ ۶ / دسمبر ۱۹۶۸ء میں ان کو معلم حقیقی کی حیثیت سے بتاتا اور پڑھاتا ہوں بلکہ تم خود میرے شاگرد بن جاؤ۔چاہے پہلی جماعت کے شاگرد ہی سہی لیکن میرے شاگرد بن جاؤ اور اگر اس میں کامیاب ہو جاؤ گے تو پھر تم میری دی ہوئی توفیق سے دوسری جماعت میں بھی ہو جاؤ گے اور اس کے بعد پھر تیسری جماعت میں ہو جاؤ گے۔پھر کچھ عرصہ بعد تم ایم اے تک پہنچ جاؤ گے پھر تم ڈاکٹریٹ اور پوسٹ ڈاکٹریٹ کے مقام تک پہنچ جاؤ گے۔مادی دنیا میں بھی علمی تحقیق کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے جس کتاب عظیم میں جس کتاب حکیم میں اور جس فرقان میں نہ ختم ہونے والے خزانے پائے جاتے ہیں اس کے متعلق بھی تحقیق کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا وہ کھلا رہتا ہے۔وہ لوگ جن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اُن کا مقام ارفع اور اعلیٰ ہے اور کامل اتباع کے نتیجہ میں کامل معرفت انہیں عطا کی جاتی ہے ان پر بھی مزید ترقیات کے دروازے بند نہیں ہوتے وہ بھی اللہ تعالیٰ سے زیادہ سے زیادہ سیکھتے چلے جاتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ ترقی حاصل کرتے چلے جاتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ماہ رمضان ترقیات حاصل کرنے کا ایک موقع بہم پہنچاتا ہے اس کو گنواؤ مت۔اگر تم رمضان کی عبادات خلوص نیت کے ساتھ اور میری بتائی ہوئی شرائط کے ساتھ ادا کرو گے تو تم میرے سکول میں میرے مدرسہ میں داخل ہو جاؤ گے جہاں صرف درس نہیں ہوگا بلکہ وہاں بیان بھی ہوگا وہاں دو کلاسیں ہوں گی ایک درس ہوگا یعنی جو دوسروں نے سکھا یا وہ تم سمجھنے لگ جاؤ گے اور ایک بیان کی کلاس ہو گی کہ میں تمہیں خود سکھاؤں گا میں خود تمہارا معلم بن جاؤں گا اور کتنا خوش قسمت ہے وہ انسان جسے اللہ تعالیٰ خود سکھانا شروع کر دے۔پس رمضان کی اس برکت سے بھی زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کی کوشش کرو۔اللہ تعالیٰ آپ کی اور میری خواہشات کو پورا کرے اور وہ خود ہمارا معلم بنے۔روزنامه الفضل ربوه ۱۹ ار دسمبر ۱۹۶۸ء صفحه ۲ تا ۴)