خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 409
خطبات ناصر جلد دوم ۴۰۹ خطبه جمعه ۲۹ / نومبر ۱۹۶۸ء ناجائز تصرف قائم رکھے ابھی تک جو رپورٹ مجھے ملی ہے وہ یہی ہے کہ دوست اس طرف متوجہ ہوئے ہیں اور انشاء اللہ کل ۳۰ نومبر تک یعنی وقت کے اندر اندر ناجائز طور پر تعمیر کردہ دکانیں اور مکانات خالی کر دیئے جائیں گے جو ایسا نہیں کرے گا وہ خدا تعالیٰ کے اس انذار کے مطابق که إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ (القصص: ۷۸) یعنی اللہ تعالیٰ فساد کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے خلفاء اس کے صلحاء اور نیک بندوں کی محبت سے محروم ہو جائے گا اور اگر کوئی ایسا ہو تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو ہدایت دے اُمید تو یہی ہے کہ ایسا ہم میں سے کوئی نہیں نکلے گا۔فساد جس کا اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے کہ واذا توٹی سعى فِي الْأَرْضِ اس سے مراد روحانی اور مذہبی فساد بھی ہے جب ملک میں بدامنی کے حالات پیدا کر دیئے جائیں تو وہ لوگ جو اپنے اوقات کو اللہ تعالیٰ کی یاد میں اور اس کے ذکر میں خرچ کرنا چاہتے ہیں وہ اپنی روحانی غذا کے حصول کی طرف اپنی توجہ اس طرح قائم نہیں رکھ سکتے جس طرح وہ دوسرے حالات میں رکھ سکتے ہیں ان کے لئے بہت سی فکریں اور پریشانیاں پیدا کر دی جاتی ہیں غرض قرآن کریم نے فساد کو پسند نہیں کیا اسی طرح فرماتا ہے:۔فاذكروا الآءِ اللهِ وَلَا تَعْثُوا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ (الاعراف: ۷۵) اگر چہ یہ آیت حضرت صالح کی قوم ثمود سے تعلق رکھتی ہے لیکن جہاں پرانے انبیاء کی زبان سے اصولی احکام بیان ہوتے ہیں ان کا تعلق ہر مسلمان سے بھی ہے۔اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں جان بوجھ کر فسا دمت کرو گویا اللہ تعالیٰ نے فساد کی طرف مائل ہونے کو اس کی نعمتوں کی ناشکری قرار دیا ہے اور فرماتا ہے اگر تم خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد رکھو اور اس کے شکر گزار بندے بنو تو پھر تم فساد نہیں پیدا کر سکتے اس لئے کہ (جیسا کہ میں نے بتایا ہے ) نہ جان تمہاری اپنی ہے، نہ مال اپنا ہے، نہ مکان اپنا ہے، نہ زمین اپنی ہے ہر چیز خدا تعالیٰ کی ملکیت ہے اللہ تعالیٰ ہی ان سب کا حقیقی مالک ہے ان اشیاء میں کسی فرد یا قوم کو اس حد تک تصرف کرنے کی اجازت ہے جس حد تک اللہ تعالیٰ نے اس فرد یا قوم کو اجازت