خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 339
خطبات ناصر جلد دوم ۳۳۹ خطبه جمعه ۱۸ /اکتوبر ۱۹۶۸ء ہر چیز اللہ ہی کی میراث اور ملکیت ہے تو جو شخص بھی اللہ کو ناراض کرے گا وہ اس دنیا میں اموال کی برکت سے محروم ہو جائے گا یا کوئی اور دکھ اس کو پہنچایا جائے گا۔پھر اللہ تعالیٰ نے ایک مثال دی اور وہ یہود کی مثال ہے کہ جب مسلمانوں کو یہ کہا جاتا ہے کہ خدا کی راہ میں اپنے اموال کو خرچ کرو تو یہود میں سے بعض کہتے ہیں کہ اچھا اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اللہ ہو ا فقیر اور ہم ہوئے بڑے امیر۔ہمارے اموال کی خدا کو ضرورت پڑ گئی ہے اس لئے وہ ہم سے مانگ رہا ہے اسی پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرما یا چونکہ بخل کے ساتھ ذات باری کا استہزا بھی شامل ہو گیا ہے اس لئے انہیں عذاب حریق یعنی ایک جلن والا عذاب دیا جائے گا اور ان لوگوں کو جنہوں نے اس قسم کے فقرے مسلمانوں کو ورغلانے اور بہکانے کے لئے کہے تھے اسی دنیا سے جلن کا عذاب شروع ہو گیا تھا۔اسلام ترقی کرتا چلا گیا اور وہ لوگ جو غریب تھے اللہ تعالیٰ نے ان کی قربانیوں کو قبول کرتے ہوئے ساری دنیا کے اموال ان کے قدموں پر لا ر کھے اور جو مخالف بھی خدا تعالیٰ کے ان فضلوں اور انعاموں کو دیکھتا تھا وہ اس بات کا مشاہدہ کرتا تھا کہ سچا ہے وہ جس نے یہ کہا تھا کہ لِلَّهِ مِيرَاثُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ اور جو شخص مخالفت کو چھوڑنے کے لئے بھی تیار نہیں تھا اس کے دل میں ایک جلن پیدا ہوتی تھی یہ دیکھ کر کہ یہ لوگ غریب تھے ہمارے محتاج تھے ہم ہی ان کی ضرورتیں پوری کرتے تھے اور ہمارے بغیر ان کی ضرورتیں پوری نہیں ہوسکتی تھیں (ان دنوں جو یہود عرب میں آباد تھے وہ عربوں کو قرض دیا کرتے تھے ) غرض ان کے دلوں میں یہ دیکھ کر جلن پیدا ہوتی تھی کہ یہ بہت تھوڑے عرصہ میں یعنی چند سال کے اندراندر اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی قربانیوں کو قبول کر کے اس قسم کے نتائج نکالے ہیں کہ ساری دنیا کی دولت ان کے قدموں پر لا ڈالی ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جو مضامین بیان کئے ہیں وہ ایک دوسرے کی تائید کرتے اور دوسرے مضامین کے لئے دلائل مہیا کرتے چلے جاتے ہیں چنانچہ سورہ فاطر میں اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کے خیالات کی تردید کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ سچ تو یہ ہے اَنْتُمُ الْفُقَرَاء إِلَى اللهِ تم خدا کے فضلوں کے حاجت مند ہو تم اس احتیاج کا احساس پیدا کر لوتم یہ سمجھ لو کہ دنیا کی کوئی نعمت اور کوئی