خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 334
خطبات ناصر جلد دوم ۳۳۴ خطبه جمعه ۴ /اکتوبر ۱۹۶۸ء اور جو شخص اپنے رب کی ربوبیت کا عرفان رکھتا ہو اور اپنے خادم اور عاشق ہونے کا احساس رکھتا ہو اس کے دل میں ایک تڑپ اور ایک آگ ہو جو ایک عاشق صادق کے دل میں ہوتی ہے اور وہ یہ جانتا ہو کہ اپنے رب سے تعلق قائم کئے بغیر میری زندگی بے معنی اور لایعنی ہے اور وہ یہ سمجھتا ہو کہ میری زندگی کا مقصد صرف اس وقت حاصل ہو سکتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ میرے ساتھ تین حسن سلوک کرے مجھ پر تین احسان کرے ایک تو وہ میری حفاظت کی ذمہ داری لے لے دوسرے وہ ہر وقت میری نصرت اور مدد کے لئے تیار رہے نیز (۳) ہر وقت اپنی رحمتوں سے مجھے نواز تار ہے۔پس یہ ایک بڑی کامل دعا ہے یہ ہمیں سچی توحید سکھاتی ہے یہ ہمیں بتاتی ہے کہ کوئی مضرت کوئی دکھ کوئی ایذا ہمیں پہنچ نہیں سکتی نہ انسانوں کی طرف سے اور نہ اشیائے مخلوقہ کی طرف سے جب تک کہ اللہ تعالیٰ کا اذن نہ ہو اور کوئی نفع ہمیں حاصل نہیں ہوسکتا جب تک اس کی مرضی نہ ہو اور آپ نے فرمایا ہے کہ جو شخص اس دعا کو پڑھتا رہے گا وہ ہر ایک آفت سے محفوظ رہے گا اس لئے میں آج اس دعا کا مختصراً مفہوم بیان کرنے کے بعد اپنے دوستوں کو یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ وہ کثرت کے ساتھ اس دعا کو پڑھیں تا وہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں آجائیں تا خدا ہر وقت ان کے ساتھ ان کی مدد اور نصرت کے لئے کھڑا رہے اور اس کی رحمت ان کو اس طرح گھیر لے جس طرح نور اس چیز کو چاروں طرف سے گھیر لیتا ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ یہ فیصلہ کرے کہ وہ نور کے ہالہ کے اندر آجائے۔جس طرح سمندر کی تہہ پانی سے بھری ہوئی ہے اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ کی رحمت انسان کو ڈھانپ لے اور اس کی نصرت اسے مل جائے اور وہ اس کی حفاظت میں آ جائے تو نہ کوئی چیز اسے مضرت پہنچا سکتی ہے اور نہ کوئی چیز دکھ دے سکتی ہے نہ کوئی انسان اسے ایذا دے سکتا ہے اور نہ اس کی مخلوقات میں کوئی مخلوق اس کو دکھ دے سکتی ہے صرف اسی صورت میں انسان اس کی بنائی ہوئی اشیا سے اور اس کی مخلوقات سے فائدہ حاصل کر سکتا ہے اور آرام پاسکتا ہے اور صرف اسی صورت میں اس کی ربوبیت کامل اور مکمل طور پر اسے حاصل ہوسکتی ہے اور وہ وہ بن سکتا ہے ہ جو خدا اسے بنانا چاہتا ہے یا جس کی استعداداللہ تعالیٰ نے اسے دی ہے۔