خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 312 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 312

خطبات ناصر جلد دوم ۳۱۲ خطبه جمعه ۲۰ ستمبر ۱۹۶۸ء ہوتا لیکن دعا ئیں بڑی کثرت سے قبول ہوتی ہیں۔جماعت کا دل خدا تعالیٰ کی حمد سے ہمیشہ بھرا رہنا چاہیے جماعت کا سر نہایت عاجزی کے ساتھ اپنے رب کے قدموں پر جھکا رہنا چاہیے اور ہم اسے چھوڑ کر جا بھی کہاں سکتے ہیں، ہمارا رب اتنا پیار کرنے والا ربّ ہے کہ اس نے ہماری جماعت کو ایک وجود بنا دیا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل حیات سے انہیں زندگی بخشی ہے اور اس کو یہ توفیق عطا کی ہے کہ اس کے افراد ایک ہی دل کی دھڑکن کے ساتھ زندگی کی سانسیں لیں اور ایک ہی رنگ میں رنگین ہو کر ایک ہی رنگ کی دعائیں کریں۔پس جس وقت خلیفہ وقت کی دعا قبول ہوتی ہے تو وہ اپنے عاجزی کے مقام کو بھولتا نہیں اور اس کے دل میں کبھی یہ خیال پیدا نہیں ہوتا کہ میں کوئی ایسی بڑی ہستی ہوں کہ میرا رب بھی میری دعائیں قبول کرنے پر مجبور ہو گیا ہے بلکہ وہ تو نہایت عاجزی کے جذبات کے ساتھ اپنے رب کے حضور یہ کہتے ہوئے جھکتا ہے کہ اے میرے رب ! میں بڑا گناہ گار ہوں ، میں بہت بے بس ہوں، میں بہت عاجز ہوں، میرے اندر کوئی خوبی نہیں تو نے خود ہی کسی مصلحت کی بنا پر مجھے ایک طرف یہ مقام نیابت عطا کر دیا ہے اور دوسری طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت میں اس نظام خلافت کی وجہ سے جماعت کو یک جان کر دیا ہے اور وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کا ہی ایک حصہ بن گئی ہے اور آپ کی دعاؤں اور اُمت محمدیہ میں سے پہلوں اور پچھلوں کی دعاؤں کے نتیجہ میں تو ہماری دعاؤں کو قبول کرتا ہے پس تو ایسا کر کہ ہمیشہ ہمارے دلوں کی عاجزانہ حالت باقی رہے، تکبر اور ریا ہم میں نہ آنے پائے اور اگر کوئی سر غرور سے اٹھے تو اس سر کو بھی ( تیرا غضب نہیں بلکہ تیرا رحم جوش میں آکر نیچا کر دے اور جھکا دے تا کہ اس کے دل میں تیرے فضل سے عاجزی اور انکسار کے جذبات پیدا ہو جا ئیں اور وہ یہ نکتہ سمجھنے لگے کہ اس کے اندر ( اور نہ کسی اور کے اندر ) کوئی ذاتی خوبی نہیں جس خوبی کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ انسان کی دعاؤں کو قبول کیا کرتا ہے سب خوبیوں کا مالک اور منبع اور سر چشمہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے اور اس کی برکتوں اور فضل سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہے اور آپ کے فیض سے ہی مومنین کی جماعت کا وجود زندہ اور نورانی اور رحمتوں کا وارث ہے اگر یہ نور نہ رہے اگر وہ دل سینہ میں نہ دھڑ کے تو یہ مٹی کا ایک ڈھیر