خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 18 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 18

خطبات ناصر جلد دوم ۱۸ خطبه جمعه ۲۶ جنوری ۱۹۶۸ء ۷ ۵ سال سے جلسہ سن رہا ہوں اور کوئی ناغہ نہیں ہوا ہر سال ہمارا جلسہ ایک منزل او پر ہوتا ہے اس سال یہ جلسہ دومنزل او پر ہوا ایک منزل نانبائیوں کی وجہ سے ہے یہ ایک حقیقت ہے کہ جس رنگ میں روٹی پکانے کا نظام نا کام اور ناکارہ ہو گیا تھا اس کے نتیجہ میں اتنے بڑے اجتماع میں ابتری اور انتشار پیدا ہونا لازمی تھا اگر یہ اجتماع محض خدا کے لئے منعقد نہ ہوتا۔لیکن اس انتہائی کرائسس (Crisis ) کے وقت اللہ تعالیٰ نے جس بشاشت اور اخلاص اور ایثار کا مظاہرہ کرنے کی جماعت کو تو فیق عطا کی وہ اپنی ہی مثال ہے اور اگر ہم اسلامی تاریخ پر نظر ڈالیں تو پہلی صدی ہجری کو چھوڑ کر ہماری تاریخ میں شاید ہی اس قسم کا کوئی نظارہ ہمیں ملے۔اتنا بڑا اجتماع تھا لاکھ کے قریب احمدی اور غیر احمدی جلسہ کو سننے کے لئے اور اپنی غلط فہمیاں دور کرنے کی غرض سے آئے ہوئے تھے ( مرد بھی تھے اور عورتیں بھی تھیں۔بوڑھے بھی تھے اور جوان بھی تھے اور بچے بھی تھے لیکن ہر طرف اس بظاہر ابتری کے وقت میں بشاشت ہی بشاشت نظر آتی تھی اور مجھ سے تو بہت سے دوستوں نے کہا کہ اگر آپ کہیں تو ہم تین دن روزہ رکھ کر بھی گزارہ کر سکتے ہیں۔میں نے انہیں کہا کہ نہیں روزہ رکھنے کی بھی اجازت نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کم کھانے کا ہم سے مطالبہ کر رہا ہے اور جو مطالبہ ہے وہی پورا کرنا چاہیے۔ایسے حالات کیوں پیدا ہوئے یہ تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ خدا نے جماعت کا امتحان لیا اور خدا تعالیٰ کی توفیق سے جماعت اس امتحان میں کامیاب ہوئی۔یہ اللہ تعالیٰ کا بہت ہی بڑا فضل ہے اور اس فضل کے نتیجہ میں ہمارے دل خدا تعالیٰ کی حمد سے بھرے ہوئے ہیں۔اس سلسلہ میں میں چند ہدایتیں دینا چاہتا ہوں جن میں سے بعض کا تعلق جماعت سے ہے اور بعض کا منتظمین سے۔اللہ تعالیٰ جب ایسے حالات پیدا کرتا ہے تو ان سے جتنے زیادہ سے زیادہ سبق حاصل کئے جاسکیں وہ ہمیں کرنے چاہئیں۔پانچ باتیں ہیں جن کی طرف ہمیں متوجہ ہونا چاہیے اور پانچ منصوبے ہیں جو ہمیں اگلے جلسہ سے پہلے پہلے مکمل کر لینے چاہئیں۔ایک تو یہ کہ جماعت خاص توجہ کے ساتھ ۳۰۰ احمدی نو جوانوں کو تنور میں روٹی لگانا سکھائے اور اس کے متعلق مجھے اکتوبر یا نومبر میں رپورٹ مل جانی