خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 268 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 268

خطبات ناصر جلد دوم ۲۶۸ خطبه جمعه ۳۰/اگست ۱۹۶۸ء نے اپنے رب سے باندھا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ سورۃ بقرہ میں فرماتا ہے۔اَوْفُوا بِعَهْدِي أُوفِ بِعَهْدِكُمْ وَ ايَّايَ فَارْهَبُونِ جو عہد تم نے مجھ سے باندھا ہے وفا کے ساتھ پورا کرو اور میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ اس عہد کو وفاکے ساتھ پورا کرنے پر جو میں نے تمہیں بشارتیں دی ہیں میں اپنے اس عہد کو پورا کروں گا اور وہ تمام بشارتیں تمہیں عملاً حاصل ہو جائیں گی جن کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے اور اگر اس عہد کو صدق و وفا سے پورا کرنے کے راستہ میں شیطان تمہیں ڈرانے کی کوشش کرے تو تمہیں یا درکھنا چاہیے کہ شیطان سے نہ ڈرنا کیونکہ میں ہی وہ ایک ذات ہوں جس سے حقیقی خوف کھانا چاہیے۔اللہ تعالیٰ ایک دوسری جگہ فرماتا ہے۔اِنَّمَا ذَلِكُمُ الشَّيْطَنُ يُخَوْفُ أَوْلِيَاءَةُ یہ شیطان ہے جو اس سے تعلق قائم کرتے ہیں وہ ان کو ڈراتا ہے اور ان کے ذہنوں میں ان کی جہالت کے نتیجہ میں ایک ایسا خوف پیدا کرتا ہے کہ جو خوف اللہ تعالیٰ سے کرنا چاہیے وہ اپنے رب کو بھول جاتے ہیں اور اپنے عہد کو وفا نہیں کرتے۔دوسری اصولی بات یا وہ راہ جو شیطان بندے کو خدا سے دور لے جانے اور اس کے عہد کو تڑوانے کے لئے اختیار کرتا ہے وہ یہ ہے کہ اس دنیا کی وہ لالچ دیتا ہے ایک یہ کہ دنیا سے خوف دلاتا ہے برادری کا خوف ہے، ماحول کا خوف ہے، اکثریت کا خوف ہے ، بعض دفعہ حکومتوں کے خوف آجاتے ہیں جب حکومتیں ظالم ہوں۔ہزار قسم کے خوف وہ دل میں پیدا کرتا ہے۔ان خوفوں کے پیدا کرنے کے نتیجہ میں وہ یہ چاہتا ہے کہ اللہ کا خوف دل سے نکل جائے حالانکہ اگر کسی کا خوف انسان کے دل میں پیدا ہونا چاہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔سورۃ نساء میں اللہ تعالیٰ نے دوسری بات کے متعلق فرمایا ہے يَعِدُهُمْ وَيُمَتِّيْهِمْ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطنُ إِلا غُرُورًا اور یہ وعدے جو ہیں یہ اس رنگ میں کرتا ہے کہ جو ان کی بداعمالیاں ہیں انہیں ان کی نگاہ میں خوبصورت کر دیتا ہے۔وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَنُ أَعْمَالَهُمْ یہ اعمال انتہائی طور پر بدصورت اور کر یہہ ہوتے ہیں اور کوئی حقیقی حسن جو اللہ کے حسن کا۔پر تو لئے ہو ان اعمال میں نہیں ہوتا ، کوئی نور جو اللہ کے نور سے حصہ لئے ہوان کے اعمال میں نہیں