خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 241 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 241

خطبات ناصر جلد دوم ۲۴۱ خطبہ جمعہ ۹ راگست ۱۹۶۸ء جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہو۔جو فقرہ قرآن کریم میں حضرت یوسف علیہ السلام کی زبان سے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے یعنی مَا أُبَرِى نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ (يوسف:۵۴) خدا کا ایک برگزیدہ نبی یا وہ جو نبوت کے لئے خدا کے فرشتوں کی گود میں پرورش پارہا تھا اس کے منہ سے یہ فقرہ نکلنا اور قرآن کریم کا اسے بیان کر دینا ہمارے لئے ایک بڑا سبق ہے۔انسان خواہ کتنا ہی مجاہدہ کیوں نہ کرے، ہزار بشری کمزوریاں، کو تا ہیاں ساتھ لگی ہیں حالات سے بعض دفعہ مجبور ہو جاتا ہے بعض دفعہ شیطانی وسوسوں سے مجبور ہو جاتا ہے اور گناہ کر بیٹھتا ہے خدا کے فضل کے بغیر خدا کی رحمت کے بغیر اس کی رحمت کو بھی ہم حاصل نہیں کر سکتے لیکن اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں رحمت کے حصول کے لئے بعض راستوں کی تعیین کی ہے بعض اعمال صالحہ کے بجالانے کا حکم فرمایا ہے جو شخص اباء اور استکبار سے یہ کہتا ہے کہ خدا کے حکم کو تو میں نہ مانوں گا لیکن اس کی رحمت کا میں اُمید وار بنوں گا وہ یا پاگل ہے یا شیطان کے چیلوں میں سے ہے جس نے خدا کی ذات پر علی وجہ البصیرت ایمان لانے کے بعد بھی اس کے احکام کی بجا آوری سے انکار کیا پس ایک راستہ جو خدا کی رحمت کے بے پایاں سمندر تک لے جانے والا ہے وہ یہ ہے کہ کثرت سے اس کا ذکر کیا جائے اور صبح و شام اس کی تسبیح کی جائے جماعت کے معیار کو اس سلسلہ میں بلند کرنے کے لئے میں نے جماعت سے یہ کہا تھا کہ مختلف عمروں کے لحاظ سے مقررہ تعداد میں سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيْمِ اور درود اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ پڑھنا ہے کم از کم اتنی تعداد میں پڑھنا ہے یہ نہیں کہ اس سے زیادہ نہیں پڑھنا بعض دوست تو لکھتے ہیں اور بڑا لطف آتا ہے کہ آپ نے تین سو دفعہ کہا اور ہمیں توجہ ہوئی اور ایک دوست نے تو لکھا کہ میرا بچہ جو شاید اطفال کی عمر کا تھاوہ چھ سات سو دفعہ بلکہ بعض دنوں میں ہزار دفعہ پڑھتا ہے تو زیادہ پڑھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے بلکہ زیادہ ہی پڑھنا چاہیے بلکہ کچھ زائد ضرور کرنا چاہیے تا کہ وہ تعداد لا تعداد بن جائے کیونکہ معین میں جب غیر معین مل جاتا ہے تو سارا غیر معین بن جاتا ہے معین نہیں بنتا اگر تین سو میں غیر معین تعداد در و دو تسبیح اور تحمید شامل کر دی جائے تو ٹوٹل جو بنے گا مجموعہ جو اس کا ہو گا وہ غیر معین ہے پس چونکہ ہم اپنے رب سے