خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 227 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 227

خطبات ناصر جلد دوم ۲۲۷ خطبہ جمعہ ۲۶ / جولائی ۱۹۶۸ء کو مہلت دی جائے لیکن فضل عمر فاؤنڈیشن کے سلسلے میں عام قاعدہ اور دستور یہ ہوگا کہ تیسرا سال اس کا آخری سال ہے اور ساری وصولی اسی کے اندر ہو جانی چاہیے اور مرکزی کارکنوں اور جماعتوں کے کارکنوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ سال وصولیوں کا ہے وعدوں کا نہیں اگر کوئی چاہتا ہے تو وہ وعدہ کرے اور تین سال کا چندہ اکٹھا دینے کا وعدہ کرے وہ اتنا ہی وعدہ کرے جو وہ تیسرے سال میں پورے کا پورا ادا کر سکے اس کو ہم آگے نہیں چلا ئیں گے غرض اس چندہ کی طرف خاص توجہ دینی چاہیے ویسے تو اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے کہ جماعت کو اللہ تعالیٰ نے قربانی کی بڑی توفیق عطا کی ہے کتنی مالی قربانیاں ہیں جو مختلف شکلوں میں جماعت کو دینی پڑتی ہیں پھر یہ تجویز ہوئی سب نے مشورہ کیا، ایک جذبہ پیدا ہوا اور اسی تعلق کی وجہ سے ہوا جو جماعت کے افراد کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا اور پہلے خیال تھا کہ ۲۵ لاکھ روپیہ تک چندہ اکٹھا کیا جائے لیکن اس وقت تک ساڑھے سینتیس لاکھ کے وعدہ ہو چکے ہیں اور وصولی بھی پونے بائیس لاکھ کے قریب ہو چکی ہے پس یہ بات صحیح ہے کہ مخلصین بڑی قربانی دیتے ہیں لیکن جنہوں نے یہ چندہ ابھی تک ادا نہیں کیا ہمارا فرض ہے کہ ان کے متعلق بھی ہم حسن ظنی سے کام لیں کہ ان کے چندہ کی عدم ادائیگی اخلاص کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ بعض جائز حالات یا بعض بے احتیاطیوں اور عدم توجہ کی وجہ سے وہ پیچھے رہ گئے ہیں میں انہیں کہتا ہوں کہ اپنے اخلاص کو جھنجوڑیں اور اپنے وعدوں کو پورا کریں اور اس تیسرے اور آخری سال اس ذمہ داری سے عہدہ برآ ہو جائیں پتہ نہیں کہ آئندہ کیا حالات ہونے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے کس رنگ میں اور کس شکل میں ہم سے قربانیاں لینی ہیں ایک کام جو ہم نے شروع کیا ہے اس کے اتنے حصہ کو ہمیں جلد سے جلد بند کر دینا چاہیے پھر اللہ تعالیٰ مزید قربانیوں کی راہیں ہمارے لئے کھول دے گا اور مزید قرب اور رحمت کے دروازے ہمارے لئے کھول دے گا ہم سے وہ ایک پیسہ لیتا ہے تو میں یہ نہیں کہتا کہ اسی پیسہ کے مقابلہ میں چونکہ وہ ہمیں ہزار پیسہ دے دیتا ہے اسی لئے ہم خوش ہیں کیونکہ جب ہم یہ پیسہ اس کی راہ میں پیش کرتے ہیں تو ہمارا نفس ہمیں کہتا ہے کہ ہمیں دنیا کے اموال سے محبت نہیں ہے جب دنیا کا مال ہمیں احسان کے طور پر واپس ملتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا یہ احسان دیکھ کر ہم خوش بھی