خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 212
خطبات ناصر جلد دوم ۲۱۲ خطبہ جمعہ ۱۹ جولائی ۱۹۶۸ء ادا کرنی چاہیے لیکن اگر سردی ہو تو لحاف سے نکلنا بڑی مشقت طلب بات ہے لیکن وہ اپنے رب کی رضا کے حصول کے لئے کوئی پروا نہیں کرتا اور اس کی عبادت تنہائی کی گھڑیوں میں دنیا سے پوشیدہ رہتے ہوئے بجالاتا ہے اور صرف اس لئے بجالاتا ہے کہ اس کا رب اس سے خوش ہو جائے یا مثلاً گرمی کا موسم ہو گرمی میں نیند کا بہت کم وقت ملتا ہے اور انسان کو ضروری کاموں کے بعد سونے کے لئے بمشکل دو اڑھائی گھنٹے ملتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ میں صبح کی نماز سے قبل بمشکل ڈیڑھ سے اڑھائی گھنٹے تک سوسکتا ہوں دوست کہتے ہیں کہ آپ صبح کی نماز کے بعد سو یا نہ کریں صحت اچھی رہے گی لیکن وہ میرے حالات کو جانتے نہیں میں اگر صبح کی نماز کے بعد نہ سوؤں تو میں بیمار ہو جاؤں کیوں جتنی نیند قانونِ قدرت کے مطابق مجھے لینی چاہیے وہ پوری نہ ہو اس لئے مجبوراً مجھے سونا پڑتا ہے۔اسی طرح نماز کی پابندی ہے نماز باجماعت کے لئے پانچ وقت مسجد میں جانا بہر حال مشقت طلب ہے اس سے انکار نہیں پھر روزہ ہے اس میں بھی مشقت برداشت کرنی پڑتی ہے زکوۃ ہے اس میں بھی مشقت برداشت کرنی پڑتی ہے۔انسان (اگر وہ مثلاً زمیندار ہے ) سوچتا ہے کہ راتوں کو میں جا گا ، ہل چلائے ، کھیتوں میں پانی دیا جب ساری دنیا سائے کی تلاش میں تھی میں دھوپ میں خدا تعالیٰ کے رزق کی تلاش میں گہائی کر رہا تھا، دانے نکال رہا تھا، میں سارا دن دھوپ میں بیٹھا رہتا تھا۔اب یہ پیسہ جو مجھے ملا ہے یہ میں کسی اور کو دے دوں؟ شیطان آکر کہتا ہے کہ قربانیاں ساری تم نے دیں پھر تم اس پیسہ کو کسی دوسری جگہ خرچ کیوں کر ولیکن وہ یہ سوچتا ہے کہ میرے رب نے مجھے توفیق دی کہ میں رزق حلال کے حصول کے لئے یہ مشقت برداشت کروں اور میں اپنے رب سے دعا کرتا ہوں کہ اس مشقت سے حاصل شدہ جو مال ہے اس سے میں صرف اس دنیا کا فائدہ حاصل نہ کروں بلکہ اُخروی زندگی کا بھی فائدہ حاصل کروں وَ بِهِ التَّوْفِیق۔پس ایک یہ مشقت ہے جو انسان کو دوسری دنیا کے فوائد کے حصول کے لئے برداشت کرنی پڑتی ہے اگر اس کی نیت نیک ہو جس وقت وہ گرمی میں جا کر اپنی کھیتی باڑی کا کام کر رہا ہوتا ہے اس کے دماغ میں یہ آیت آ رہی ہوتی ہے قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ أَشَدُّ حَدًا (التوبة: ۸۱) یعنی اس گرمی