خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 179
خطبات ناصر جلد دوم ۱۷۹ خطبہ جمعہ ۲۱؍جون ۱۹۶۸ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جو نشانات عطا ہوئے ہیں وہ قیامت تک چلتے ہیں خطبه جمعه فرموده ۲۱ / جون ۱۹۶۸ء بمقام مسجد احمد یہ۔مری تشہد، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔آج کے لئے جو مضمون ذہن میں آیا تھا اس پر جب میں نے غور کیا تو ایک لمبا مضمون بن گیا ہے اور چونکہ ابھی تک میری کمزوری ابھی باقی ہے جو بیماری نے پیدا کی تھی اور یہاں حبس اور گھٹن بھی میں نے محسوس کی ہے اس لئے وہ مضمون تو اگر اللہ تعالیٰ نے زندگی اور توفیق دی انشاء اللہ آئندہ جمعہ میں ادا کر دوں گا اس وقت میں مختصر خطبہ میں اپنے دوستوں ، بھائیوں اور بہنوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں یعنی قرآن کریم کے بالکل شروع اور ابتدا میں ہمیں اس طرف متوجہ کیا کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمِ - صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یہ ایک چھوٹی سی سورۃ ہے جو سات آیات پر مشتمل ہے لیکن ایسے بنیادی مضامین کی حامل ہے کہ اصولی طور پر تمام قرآنی مضامین کا خلاصہ اس میں پایا جاتا ہے اور نہایت گہری اور نہایت وسیع اور نہایت حسین تعلیمیں اس میں اس محسن سے بیان کی گئی ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آج سے قریباً ( صحیح وہ تاریخ مجھے یاد نہیں اس واسطے میں اندازے سے یہ کہ سکتا ہوں کہ قریباً) ساٹھ سال پہلے عیسائیوں کو اس طرف توجہ دلائی اور انہیں مدعو کیا ایک عیسائی کے اس سوال کے جواب