خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 170 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 170

خطبات ناصر جلد دوم ۱۷۰ خطبہ جمعہ ۱۴ / جون ۱۹۶۸ء بندہ یہ جانتا ہے کہ انسان خواہ کتنی ہی تدبیر کیوں نہ کرے جو اسباب اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں ان کا بہترین استعمال کرے، اپنی قوتوں اور استعدادوں کو ضائع نہ ہونے دے اور ان کا صحیح استعمال کرے اور دعا بھی کرے کہ یہ بھی تدبیر ہی ہے پھر بھی دعا کو قبول کرنا اور اسباب کا وہ نتیجہ نکالنا جو یہ شخص چاہتا ہے کہ نکلے جس نے تدبیر کے ذریعے اُن اسباب کو استعمال کیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے محض تدبیر کرنے سے یقینی طور پر وہ نتیجہ نہیں نکلتا جو تد بیر کرنے والا چاہتا ہے، نہ ساری دعائیں قبول ہوتیں ہیں۔ہماری اس زندگی میں ہزاروں بار یہ بات مشاہدہ میں آئی ہے کہ تدبیر کو انسان اپنی انتہا تک پہنچا دیتا ہے، دعاؤں میں کوئی کمی نہیں رکھتا بظاہر ، لیکن دعا ئیں بھی رڈ کر دی جاتی ہیں اور تدابیر بھی بے نتیجہ ثابت ہوتی ہیں اور انسان حیران اور پریشان ہوتا ہے کہ میں نے کیا کچھ تھا اور چاہتا کچھ تھا لیکن ہوا کچھ اور۔اور میری خواہش کے مطابق میری تدبیر کا نتیجہ نہیں نکلا بیسیوں خطوط مجھے آتے رہتے ہیں پوری کوشش کرتے ہیں اپنی سمجھ کے مطابق ، لیکن جس قسم کی تجارت بھی کرتے ہیں اس میں ناکام ہو جاتے ہیں اور سرمایہ ضائع ہو جاتا ہے۔تو تد بیر کرنا انسان کے لئے ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو اسباب کی دنیا بنایا ہے اور انسان کو بہت سی قوتیں اور استعداد میں عطا کی ہیں جس کے نتیجہ میں وہ تدبیر کر سکتا ہے اسی لئے وہ اس قابل ہے کہ وہ تدبیر کرے، وہ کام کرے، وہ محنت کرے ، وہ سوچے ، وہ اپنی عقل سے کام لے، وہ کامیابی کے بہترین طریقے جو ہیں ان پر چلے لیکن یہ سب کچھ کرنے کے بعد اگر وہ یہ سمجھے کہ جس طرح ایک اور ایک مل کے دو بن جاتے ہیں اسی طرح میری تدبیر اور دعا کا ضرور نتیجہ نکلے گا تو وہ غلطی پر ہوتا ہے اور اپنی دنیا میں، اس ٹھوس اور مادی دنیا میں ساری تدبیروں پر کو بے نتیجہ ہوتے ، ساری دعاؤں کو رڈ ہوتے وہ دیکھتا ہے ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں متوجہ کیا ہے کہ خدائے رحمن کی طرف متوجہ ہو جا ئیں یعنی اپنے پر ایک قسم کی موت وارد کر کے اس کے حضور جھکو (اور یہ دعا عام دعاؤں کی قسم کی نہیں ہوتی اور اس سے کہو اے ہمارے رحمن رب ! تو نے ان گنت اور بے شمار نعمتیں ہمارے لئے پیدا کیں اور ہمارے عمل کو اس میں کوئی دخل نہیں تھا کیونکہ وہ پیدائش سے بھی پہلے وجود میں آچکی تھیں، ان اسباب، ان نعمتوں سے آج ہم فائدہ