خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 4
خطبات ناصر جلد دوم خطبه جمعه ۵/جنوری ۱۹۶۸ء ہیں۔سارے وقت کے پروگرام میں شامل نہیں رہتے۔سوائے ضروری حاجت کے جس کے لئے انسان کو بہر حال اُٹھنا پڑتا ہے۔اس کے علاوہ کوئی ایک منٹ بھی ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ہم جلسہ گاہ میں نہ گزاریں۔مجھے علم ہے کہ بعض دوست پر وگرام دیکھ کر یہ فیصلہ کرتے ہیں اپنے دل میں کہ فلاں کی تقریر ہم نے ضرور سنی ہے اور فلاں کی ہم نے ضرور سنی ہے۔چار پانچ تقاریر کے متعلق وہ فیصلہ کر لیتے ہیں اور باقی تقاریر میں کسی دلچسپی کا اظہار نہیں کرتے حالانکہ ان کو بلا یا یہ کہہ کر گیا تھا کہ ربانی باتیں سننے کے لئے یہاں جمع ہوں لیکن وہ ربانی باتوں کو اہمیت دینے کی بجائے ان ربانی باتوں کو اہمیت دیتے ہیں جو کسی خاص آدمی کی زبان سے نکلیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کو اس لئے جمع نہیں کیا اگر آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ( کی آواز ) پر لبیک کہتے ہوئے جمع ہوتے ہیں تو آپ کے لئے ضروری ہے کہ آپ ان شرائط کی پابندی کریں جو شرائط حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ پر عائد کی ہیں اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو بہت سی برکات سے محروم ہو جائیں گے۔(۳) تیسری بات حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بیان فرمائی کہ اس اجتماع میں اجتماعی اور انفرادی دعاؤں کے بہت سے مواقع ملتے ہیں۔ان دعاؤں میں شریک ہونے اور ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کی نیت سے اس اجتماع میں شامل ہونا چاہیے۔اس لئے جو یہاں آتے ہیں اور جو یہاں رہتے ہیں اور خدمت پر اس وقت لگے ہوئے نہیں ہوتے۔ان کا یہ فرض ہے کہ وہ ان دعاؤں کے مواقع کو ضائع نہ کریں افتتاحی دعا جلسہ کے ایام میں تو افتتاح کے موقع پر ہوتی ہے پھر جلسہ جب ختم ہوتا ہے اس وقت ہوتی ہے اس کے علاوہ بھی بعض دفعہ ایسے مواقع میسر آ جاتے ہیں جب اجتماعی دعا کی جاتی ہے۔ایک حصہ زائرین کا اور کچھ یہاں رہنے والوں کا بھی صبح تہجد کے وقت اکٹھے نوافل ادا کر کے اجتماعی دعا کا موقع حاصل کرتے ہیں یہ ایسا موقع تو نہیں جس کے متعلق میں کہوں کہ سب اس میں شامل ہوں کیونکہ سب کی شمولیت کا انتظام نہیں ہو سکتا یہ مسجد بھی چھوٹی سی ہے۔بہر حال جن دوستوں کو اللہ تعالیٰ توفیق عطا کرے اور وہ اس میں شامل ہوسکیں انہیں اس