خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 140 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 140

خطبات ناصر جلد دوم ۱۴۰ خطبه جمعه ۱۰ رمئی ۱۹۶۸ء نہ کسی قسم کی خرید و فروخت نہ دوستی ، نہ شفاعت کارگر ہوگی خدا کی راہ میں جو کچھ ہو سکے خرچ کرلو۔اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس طرف متوجہ کیا ہے کہ حشر کے دن جب ساری مخلوق تمام بنی نوع انسان اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے تو اس وقت تین چیزوں کی ضرورت ہوگی ایک تو کوئی ایسا سودا ہو چکا ہو جو اس دن کام آئے دوسرے کوئی ایسا دوست بنایا جا چکا ہو جس کی دوستی حشر کے دن فائدہ پہنچانے والی ہو اور تیسرے اس دن کوئی سفارش ہو۔ان تینوں میں سے کوئی چیز یا تینوں جسے حاصل ہو جائیں وہ حشر کے دن شرمندہ نہیں ہو گا بلکہ اللہ تعالیٰ تمام بنی نوع انسان کے سامنے اس کی تعریف کرے گا، اسے پیار کی نگاہ سے دیکھے گا، پیار کا معاملہ اس سے کرے گا، اپنی عظمت اور اپنے حسن کے جلوے اسے دکھائے گا اور اسے ایسا سرور بخشے گا جو کبھی ختم ہونے والا نہیں لیکن وہ لوگ جنہوں نے اس دن کے لئے خرید وفروخت کا سامان پیدا نہیں کیا جن کی ایسے وجود سے دوستی نہیں کہ جو دوستی اس دن کام آ سکے اور جن کا کوئی سفارشی اس دن نہیں وہ تو گھاٹے میں رہے وَالْكَفِرُونَ هُمُ الظَّلِمُونَ (البقرة : ۲۵۵) جو اللہ تعالیٰ کے اپنے دیئے ہوئے رزق میں سے خرچ کرنے سے ہچکچاتے اور اسے چٹی سمجھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ایسے حکموں کی نافرمانی کرتے ہیں وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے نفسوں پر بڑا ہی ظلم کیا اور اس کا خمیازہ وہ حشر کے دن بھگتیں گے اللہ تعالیٰ نے اس خرید وفروخت کا ذکر بھی قرآن کریم میں کیا ہے جو حشر کے دن انسان کے کام آتا ہے۔فرما یا إِنَّ اللهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَاَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ (التوبة: 1 ) اور پھر اسی آیت میں فرمایا فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِى بَايَعْتُم به (التوبة:ااا) کہ اللہ تعالیٰ نے ایک خرید و فروخت مومنوں سے کی ہے اور وہ یہ ہے کہ مومن اپنی جانیں، اپنے نفوس، اپنے اموال خدا کو دے دیں اور خدا کی راہ میں قربان کر دیں اور اللہ تعالیٰ اس کے بدلے انہیں اپنی جنت عطا کرے گا اور یہ ایک ایسا سودا ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو تم نے بیچ کی ہے اس بیج پر خوش ہو جاؤ یہی سودا تھا جو حشر کے دن کے لئے تم کر سکتے تھے اور تم نے کر لیا۔تو يَوْمَ لَا بَيْعَ فِيْهِ (البقرة: ۲۵۵) کا یہ مطلب نہیں کہ کسی قسم کی خرید وفروخت بھی اس دن کام نہیں آئے گی مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ ایسی بیج کی اُمید لگائے ہوئے ہیں جو اس دن کام 69