خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 109 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 109

خطبات ناصر جلد دوم 1+9 خطبہ جمعہ ۱۲ را پریل ۱۹۶۸ء ہے کہ يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ جو سب سے اچھی بات ہے، جو سب سے اچھے طریقہ پر بات ہو، اس کی پابندی کرو ورنہ تم شیطان کے لئے رخنوں کو کھولتے ہو۔زبان سے ایک بڑا کام الہی سلسلوں میں یہ لیا جاتا ہے ( اور زبان کے اندر ” قول“ کے اندر ہر قسم کا اظہار ہے ) کہ تمام بنی نوع انسان کو اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف دعوت دی جاتی ہے اس لئے آج جن کو میں مخاطب کرنا چاہتا ہوں وہ صرف پاکستان سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ میرے مخاطب تمام وہ لوگ ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف اپنے کو منسوب کرتے ہیں اور دنیا کے مختلف ممالک میں رہائش پذیر ہیں اور میں انہیں اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے ایک صداقت کو صداقت سمجھ کر قبول کیا ہے آپ اس یقین پر قائم ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ آپ کے لئے قرآنی ہدایت کی ان راہوں کی نشان دہی کی ہے جو قرب الہی تک پہنچانے والی ہیں اور آپ کے دل میں یہ درد پیدا ہوتا ہے کہ جس صداقت کو، جس روشنی کو ، جس نور کو، جس جنت کو ، جس نعمت کو آپ نے پایا ہے آپ کے دوسرے بھائی بھی اسے پائیں اور اسے سمجھیں اور اس سے فائدہ اُٹھا ئیں اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے وہ بھی وارث ہوں۔اس کے لئے آپ کو اظہار کرنا پڑتا ہے زبان سے بھی ، اشاروں سے بھی، بعض دفعہ خاموشی سے بھی اور تحریر سے بھی اور عمل سے بھی۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارے دل میں ایک زبر دست خواہش پیدا ہوگی کہ وہ جنہوں نے اسلام کی صداقت کو قبول نہیں کیا اور اس کی حقانیت کو نہیں سمجھا اور اس کی روح کو حاصل نہیں کیا اور اللہ تعالیٰ کی معرفت سے وہ محروم ہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ابدی فیوض سے وہ نا واقف ہیں یہ لوگ بھی ان تمام باتوں کو سمجھیں اور پہچانیں اور اس زندگی اور اُس زندگی کی بہبود کا اور کامیابی اور فلاح کا سامان پیدا کریں ہم تمہیں یہ کہتے ہیں کہ تم اپنے رب کے راستہ کی طرف ان لوگوں کو ضرور بلا ؤ لیکن یاد رکھو کہ یہ دعوت ( أدع إلى سَبِيلِ رَبِّكَ ) حکمت اور موعظہ حسنہ کے ساتھ ہونی چاہیے۔حکمت کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ علم اور عقل کے ذریعہ حق کو درست پانا اور احقاق حق کے لئے علمی اور عقلی دلائل دینا ( جن سے قرآن عظیم بھرا ہوا ہے ) پس اللہ تعالیٰ یہاں یہ فرماتا ہے کہ