خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 99
خطبات ناصر جلد دوم ۹۹ خطبه جمعه ۵ ۱۷ پریل ۱۹۶۸ء ہم اسے استعمال نہیں کرتے ہم خلیفہ وقت کو کوئی مشورہ نہیں دیں گے لیکن اس کے برعکس اگر مشورہ لینے کا حق ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی نیابت میں آپ کے خلفاء کا ہے تو پھر کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ جب مجھ سے مشورہ مانگا جائے مشورہ کے لئے مجھے بلایا جائے میری مرضی ہے جاؤں مشورہ دوں یا نہ دوں اس لئے کہ یہ حق خلیفہ وقت کا ہے اور جماعت پر یہ حق ہے خلیفہ وقت کا کہ جب جن لوگوں کو جن امور کے متعلق وہ مشورہ کے لئے بلائے وہ اس کے کہنے اور ہدایت کے مطابق اس کے سامنے اپنے مشورہ کو رکھیں۔شَاوِرُهم ان سے سوال پیدا ہوتا ہے کن سے؟؟؟ تو اس میں بھی ھم کے فیصلہ کرنے کا حق خلیفہ وقت کو نبی اکرم کی نیابت میں ہے۔اور کن سے مشورہ کرنا ہے اور جن سے مشورہ کرنا ہے اگر ان کا انتخاب ہو نا ہو تو کس طریق سے ان کا انتخاب ہوگا یہ فیصلہ بھی خلیفہ وقت نے ہی کرنا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپ کے اُسوہ میں بھی ہمیں یہی نظر آتا ہے بعض مواقع پر جب مسلمان تھوڑے تھے اور قریباً بہت بھاری اکثریت مدینہ میں ہی رہتی تھی تو اس وقت مسلمانوں کا سوادِ اعظم مدینہ میں رہائش پذیر تھا اس وقت چند سو جو تھے وہی سوادِ اعظم بن جاتا تھا تو آپ سب کو اکٹھا کر لیتے تھے اور ایک چھوٹی بے تکلف برادری تھی اس میں وہ اکٹھے ہوتے اور آپ کو مشورہ دیتے تھے جو آپ فیصلہ کرتے فدائی اپنا سب کچھ قربان کر کے آپ کے فیصلہ کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتے اور بعض دفعہ آپ نے صرف چند آدمیوں کو بلا کے بھی مشورہ لیا ہے اور بعض دفعہ دوسروں کو صرف یہ پتہ لگا بعض قرائن سے کہ فلاں فلاں شخص مسجد میں مشورہ کے لئے روکے گئے۔نہ خود آپ نے اعلان کیا کہ میں نے مشورہ کرنا ہے۔ایک موقع پر صرف دو آدمیوں کو کہا عشاء کے بعد کہ تم ٹھہرے رہو میں تم سے بات کرنا چاہتا ہوں کیا بات تھی ؟ اس کا ہمیں آج تک نہیں پتہ تو مشورہ کا یہ طریق بھی ہوتا ہے۔تو ھم کا یہ فیصلہ کرنا۔۔۔۔ہاں جب مسلمان سارے عرب میں پھیل گئے تو اس کے بعد سوادِ اعظم سے مشورہ کرنے کا سوال ہی باقی نہیں رہتا۔ساری دنیا میں پھیل گئے۔آج بھی خدا کے فضل سے جماعت احمد یہ دنیا کے کونے کونے میں پائی جاتی ہے اور مشورہ کے لئے دنیا کی تمام جماعتوں کو مرکز میں جمع کرنا قریباً ناممکن