خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 98 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 98

خطبات ناصر جلد دوم ۹۸ خطبه جمعه ۵ را پریل ۱۹۶۸ء کرنا چاہتا ہوں کہ بہت سارے نئے دوست شوری کے نمائندے بن کے آتے ہیں اور بہت سے پرانے بھی بعض ضروری باتوں کو بھول جاتے ہیں ایسی باتیں ان کے سامنے رکھ کے یاد دہانی کرواتے رہنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ نے یہاں شاور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے۔ارشاد فرمایا ہے کہ ان سے مشورہ لیا کرو۔مشورہ لینے کا حق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا ہے یا آپ کی نیابت میں آپ کے خلفاء کو، اس کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ۱۹۳۰ء کی شوریٰ میں یہ فرما یا تھا۔مشورہ لینے کا حق اسلام نے نبی کو اور اس کی نیابت میں خلیفہ کو دیا ہے مگر کوئی یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ نبی یا خلیفہ کے سامنے تجاویز پیش کرنے کا حق دوسروں کے لئے رکھا گیا ہے۔“ اسی طرح آپ نے فرمایا:۔در مجلس شوری اپنی ذات میں کوئی حق نہیں رکھتی۔وہ میرے بلانے پر آتی اور آکر مشورہ دیتی ہے اور ہمیشہ خلیفہ کے بلانے پر آئے گی، اسے مشورہ دے گی وہ اپنی ذات میں کوئی حق نہیں رکھتی کہ مشورہ دے۔“ تو شاور کے اول مخاطب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ کی نیابت میں آپ کے خلفاء اس کے مخاطب ہیں تو مشورہ لینے کا حق نبی کو اور نیابت کے طور پر خلیفہ کو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے پچھلے سال غالباً مجلس شوری میں میں نے ایک اور زاویہ نگاہ سے بھی اس پر روشنی ڈالی تھی اور وہ یہ کہ اگر یہ سمجھا جائے کہ جماعت کا حق ہے خلیفہ وقت کا حق نہیں تو جس کا حق ہے اس کا یہ بھی حق ہوتا ہے کہ وہ اپنا حق چھوڑ دے اگر کسی سے زید نے ایک سو روپیہ لینا ہو تو اسے یہ حق خدا نے بھی اور رسول نے بھی ، اخلاق نے بھی، شریعت نے بھی اور ملک کے قانون نے بھی دیا ہے کہ وہ کہے کہ میں اپنا یہ سو روپیہ وصول نہیں کرتا اگر جماعت کو یا اس کے بعض گروہوں کو یا افراد جماعت کو بحیثیت افراد کے یہ حق دیا جاتا اور یہ ان کا حق تسلیم کیا جائے تو کہہ سکتے ہیں وہ کہ ہمارا حق ہے۔