خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 92 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 92

خطبات ناصر جلد دوم ۹۲ خطبه جمعه ۲۹ مارچ ۱۹۶۸ء اگر تمہاری یہ کیفیت ہے تب بھی تم مایوس نہ ہونا کیونکہ اس صورت میں بھی میں تمہیں اپنی رحمت کی آغوش میں لے لوں گا اور اپنے انعاموں اور فضلوں کا تمہیں وارث بناؤں گا لیکن اگر تم بار بار تو بہ کرو، اگر تم اس حقیقی روح اسلام کا دعویٰ کرو اور پھر تمہیں اور زندگی بھی عطا ہو تو یہ یا درکھو کہ پھر عمل کے ساتھ تم نے صدق اور وفا کا ثبوت دینا ہے اگر تمہارا دعویٰ تو یہ ہے کہ بڑی استغفار کرنے والے ہو، اگر تمہارا دعویٰ تو یہ ہے کہ ہم اس حقیقت کو پاگئے ہیں کہ اپنی تمام مرضیوں اور خواہشات کو خدا کی رضا پر قربان کر دینا چاہیے، لیکن تمہیں عمل کا موقع ملتا ہے عمل صالح کا اور تم وہ عمل صالح بجا نہیں لاتے تو پھر تمہاری انابت ظاہری اور تمہارے اسلام کا دعویٰ تمہیں کچھ کام نہیں دے گا۔وَاتَّبِعُوا اَحْسَنَ مَا اُنْزِلَ إِلَيْكُم مِّنْ رَّبِّكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَ أَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ (الزمر :۵۶) اس لئے ہم تمہیں کہتے ہیں کہ تمہیں انابت الی اللہ اور اسلام کے بعد یعنی اس روح اسلام کے بعد جس کی طرف میں نے ابھی مختصراً اشارہ کیا ہے ، موقع دیا جائے گا زندگی عطا ہو کچھ عرصہ تمہیں اس دنیا میں رہنے دیا جائے تو پھر یہ یاد رکھنا کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی رحمت کے وارث ہونا چاہتے ہو تو تمہارے لئے ضروری ہے کہ تم خاص قسم کے اعمال بجا لا ؤ اپنے ربّ کو راضی کرنے کے لئے اور یہ نہ بھولو کہ اللہ تعالیٰ تمہارا رب ہے اس نے تمہیں پیدا کیا اور فطرتِ صحیحہ عطا کی اور اس فطرتِ صحیحہ کی نشو و نما کے لئے آسمان سے اس نے اپنی وحی کو نازل کیا اور فطرت، فطرت میں اس نے فرق رکھا اور وقت ، وقت اور موقع موقع اس نے علیحدہ قسم کے رکھے۔ہر قسم اور ہر موقع کے لحاظ سے ہر فطرت صحیحہ کے لئے ایک عمل صالح بنایا تو اگر تم اپنی حالت، اپنی قوتوں اور استعدادوں کے مطابق اور موقع اور محل کے لحاظ سے احسن عمل بجانہ لاؤ گے تو میری رحمت تم پر نازل نہ ہو گی لیکن اس زندگی میں جو انابت اور اسلام کے بعد کی ہے تم اپنی طاقت کے مطابق اپنے حالات کے لحاظ سے موقع اور محل کو دیکھتے ہوئے اَحْسَنَ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ پر عمل کرو گے جو بہترین حکم ہے اس پر عمل کرنے والے ہو گے اور یہ عمل تم موت کے وقت کرنے کا ارادہ نہیں کرو گے بلکہ انابت اور اسلام کے بعد زندگی کی وہ گھڑیاں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہیں عطا ہوئی ہیں جو عذاب سے پہلے کی ہیں۔اس میں تم اَحْسَنَ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُم پر عمل کرو گے تو ہماری رحمت کو