خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 1000
خطبات ناصر جلد دوم خطبه جمعه ۲۸ نومبر ۱۹۶۹ء غرض ایک دعا تو یہ کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہماری کوشش میں اپنے فضل کو شامل کر دے اور دوسرے اللہ تعالیٰ جو حسین معاشرہ یا جو بہترین تعلقات یا جو ایک خوبصورت اور ایک محسن اور ایک پیار پیدا کرنے والی زندگی وحدت اقوام کے ساتھ پیدا کرنا چاہتا ہے اس کے لئے ہماری کوشش جاری رہنی چاہیے اس کوشش میں بہت سی چھوٹی چھوٹی باتوں کا دخل ہوتا ہے ان میں سے ایک موقع ہمارا جلسہ سالانہ ہے۔اصل اور بڑا موقع تو حج ہے جس میں ساری دنیا کے مسلمانوں کو اکٹھا ہو کر اس وحدت اقوام کا ایک نقشہ پیش کرنے کے لئے بلایا گیا ہے تا انسان کی توجہ اس طرف پھرے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ جس طرح انسان کی پیدائش کی ابتدا میں انسان ( گوایک چھوٹی سی قوم کی شکل میں لیکن بھائی بھائی کی طرح رہنے والے تھے اسی طرح اب پھر ساری دنیا میں بسنے والے اربوں انسان ایک خاندان کی طرح رہنے لگیں اور یہ خاندان کے خونی رشتوں سے زیادہ محبت اور پیار کے رشتے سوائے اسلام کے اور کوئی مذہب دنیا میں پیدا نہیں کر سکتا یہ ہمارے لئے ایک حکم ہے جس کے لئے ہم کوشش کر رہے ہیں اور اس کے لئے ہر دردمند دل اور اللہ تعالیٰ سے پیار کرنے والا ہر دل دعائیں کر رہا ہے لیکن اس کے لئے بعض چھوٹے چھوٹے موقعے مستقل طور پر رکھ دیئے گئے ہیں۔حج کا موقع گو ایک عظیم موقع ہے لیکن اس وحدت اقوام کے قائم ہونے کے لحاظ سے جو ساری دنیا کے انسانوں کو ایک کر دے گی حج کا موقع بھی ایک چھوٹا سا موقع ہے کیونکہ وہ نمائندوں کے جمع اور اکٹھا ہونے کا موقع ہے۔اس موقع پر مسلمانوں کے جو نمائندے جمع ہوتے ہیں وہ ساری قوم کے اجتماع اور اس کے اکٹھا ہونے کے مقابلہ میں بہر حال ایک مختصر حقیقت ہوتی ہے۔گو یہ حقیقت تو ہے۔ایک صداقت عظیمہ تو ہے لیکن تمام انسانوں کے اکٹھے ہو کر ایک برادری بن جانے کے مقابلہ میں یہ حقیقت بہر حال ایک چھوٹی سی حقیقت ہے اور اس سے بھی ایک چھوٹی حقیقت لیکن ضروری چیز جو ہم احمدیوں کے سامنے اس اجتماعی وحدت اور اجتماعی پیار اور سارے انسانوں کی ایک برادری قائم کرنے کے لئے مثال کے طور پر رکھی گئی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کیا ہے جلسہ سالانہ ہے اور یہ جلسہ سالانہ قریب آرہا ہے اس کے لئے ابھی سے اس ماہ رمضان میں جو دعاؤں کا مہینہ ہے اور دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے دعا کرتے رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اس