خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 86 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 86

خطبات ناصر جلد دوم ۸۶ خطبه جمعه ۲۲ / مارچ ۱۹۶۸ء ہیں ) جو پورا وقت نہیں دیتے ان کو یہ سوچ کر شرم آنی چاہیے کہ انہوں نے دوسروں کے لئے ایک نمونہ بننا تھا اس مسابقت کے میدان میں۔لیکن ان سے زیادہ وقت دیتے ہیں۔کراچی کے بعض احمدی جو دفاتر وغیرہ میں سات آٹھ گھنٹے لگانے کے بعد چھ سات گھنٹے جماعت احمدیہ کے کاموں پر خرچ کرتے ہیں اور ہمارے بعض کلرک ربوہ میں رہتے ہوئے گزارہ لے کے چھ گھنٹے کام نہیں کرتے اور ان کا بھائی کراچی میں جن سے گزارہ لیتا ہے ان کا آٹھ گھنٹے کام کرتا ہے اور جس رب کریم کے پیار میں وہ اپنی زندگی گزار رہا ہے اس کے لئے اس کے علاوہ چھ سات گھنٹے وہ کام کرتا ہے ہمارے اس کلرک سے زیادہ وقت دے رہا ہے ایسا ایک کلرک بھی برداشت نہیں کیا جاسکتا اور ایسا کوئی ناظر اور اگر وکیل ہو تو اس کو بھی برداشت نہیں کرنا چاہیے جماعت کو۔دنیا کے سامنے بعض دفعہ بڑے فخر سے تم بیان کرتے ہو کہ ہم خدا کی خاطر خدا کے اس شہر میں مقیم ہیں لیکن خدا کے فرشتے جب تمہاری کارروائی لے کر تمہارے رب کے حضور پہنچتے ہیں تو تمہارے کھاتے میں دین کے لئے خرچ ہونے والا اتنا وقت بھی درج نہیں ہوتا جتنا وقت ایک رضا کار کراچی میں خدا کے دین پر خرچ کر رہا ہے ڈوب مرنے کا مقام ہے، فخر سے گردن اونچا کرنے کا مقام نہیں !!! بعض نوجوان ایسے بھی ہیں (چند ایک ہی سہی مگر ہیں تو ) جو قصداً اور عمداً مسجدوں میں نماز کے لئے نہیں آتے اگر کوئی شستی کے نتیجہ میں نہیں آتا، اگر کوئی غفلت کے نتیجہ میں نہیں آتا ، اگر کوئی مسجد میں اس لئے نہیں آتا کہ اس کی ماں بیوقوف ہے نماز کے وقت وہ سو یا ہوا تھا اور اس نے اسے جگایا نہیں تو وہ اور بات ہے لیکن وہ نوجوان جو عمداً نماز کو چھوڑتا ہے وہ ربوہ میں کیا کر رہا ہے؟ اور آپ کیوں اس کو برداشت کر رہے ہیں؟ اسی طرح دوسری نیکیاں ہیں ایک نیکی ربوہ سے تعلق رکھنے والی خاص طور پر یہ ہے کہ یہاں کسی قسم کی لڑائی اور جھگڑا نہ ہو احمد یوں میں کہیں بھی نہیں ہونا چاہیے مسلمانوں میں کہیں بھی نہیں ہونا چاہیے انسانوں میں یہ کہیں بھی نہیں ہونا چاہیے لیکن وہ تو علیحدہ بات ہے خاص طور پر ربوہ میں کوئی لڑائی اور جھگڑا اور گالی گلوچ نہیں ہونا چاہیے اگر گول بازار یا غلہ منڈی یا کسی اور بازار میں یہاں لڑائی ہوتی ہے تو سارار بوہ خاموش کیوں رہتا ہے؟ کیا بھڑوں جیسی غیرت بھی تمہارے اندر نہیں ہے! کہ جب بھڑ کے چھتہ کے قریب سونٹی