خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 85
خطبات ناصر جلد دوم ۸۵ خطبه جمعه ۲۲ / مارچ ۱۹۶۸ء اللہ تعالیٰ کے یہ فضل انسان کے کندھوں پر ڈالتے ہیں۔اس لئے آج میں چاہتا ہوں کہ اہل ربوہ کو اپنا پہلا مخاطب بناؤں (ویسے تو سارے احمدی ہی میرے مخاطب ہیں ) اور ان کو اس طرف متوجہ کروں کہ دوسروں کی نسبت آپ پر زیادہ ذمہ داری ہے دوسروں کی نسبت اللہ تعالیٰ نے دنیوی سہولتیں آپ کو زیادہ دی ہیں اور اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ سب سے زیادہ نیکیوں میں آپ آگے بڑھیں لیکن آپ تو بہتوں سے پیچھے رہ رہے ہیں اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ربوہ کو بڑی قربانیاں دینے کی توفیق دی ہے لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ جہاں اکثریت مالی قربانیوں میں آگے ہی آگے بڑھنے والی ہے کچھ ایسے بھی ہیں جوا اپنی آمد کی صحیح تشخیص نہیں کرتے اور خصوصاًاد کا ندار۔ربوہ کے ماحول میں مہنگی اشیاء بیچتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں لیکن اپنے رب کی راہ میں زیادہ اموال خرچ کرنے کی طرف وہ متوجہ نہیں ہوتے اگر وہ خدا کی راہ میں ، خدا کے لئے غلبہ اسلام کی خاطر ان اموال کا ایک بڑا حصہ خرچ کر دیتے تو ان کی بہت سی کمزوریاں بھی سَارِعُوا إِلى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّکم کے ماتحت خدا تعالیٰ کی مغفرت کی چادر میں ڈھانپ دی جاتیں لیکن وہ اس طرف متوجہ نہیں۔بچوں کی تربیت کی طرف بعض باپ اور مائیں متوجہ نہیں بہت سی رپورٹیں آتی ہیں کہ راستوں پر بچے گالیاں دیتے سنے گئے احمدی بچہ ، ربوہ کے ماحول میں تربیت یافتہ ، اگر گلیوں میں گالیاں دیتا ہے تو اس کے ماں باپ کو یہ جگہ چھوڑ دینی چاہیے۔ماؤں کو خصوصیت کے ساتھ میں اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ بعض کمزوریاں ان میں ایسی ہیں کہ ان کو مردوں کی نسبت زیادہ توجہ دلانے کی ضرورت ہے اگر اللہ تعالیٰ آپ کو مال دیتا اور اولا د دیتا ہے اور ہزار قسم کی سہولتیں آپ کے لئے پیدا کرتا ہے تو ہزار قسم کی ذمہ داریاں بھی آپ پر عاید کرتا ہے۔محض ربوہ کی رہائش محض جماعت احمدیہ کا رُکن ہونا کافی نہیں ہے۔پھر میں ربوہ میں جو ہمارے کارکن ہیں ان کو اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ آپ میں سے کچھ ہیں ( بہت سے ہیں جو بڑی دیانتداری کے ساتھ ، بڑے خلوص کے ساتھ دفتر کے جو اوقات ہیں ان سے زیادہ وقت صرف کرتے ہیں دین کے کاموں کے لئے لیکن کچھ ایسے بھی تو