خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 936
خطبات ناصر جلد دوم ۹۳۶ خطبه جمعه ۱۰/اکتوبر ۱۹۶۹ء لئے ہیں جو ہماری Younger Generation ( ینگر جز یشن ) یعنی نوجوان نسل ہے ان کو تو وہ زمانہ یاد نہیں کیونکہ ان کی پیدائش سے بھی پہلے کی بات ہے جس وقت آپ خلیفہ مقرر ہوئے تو اپنے آپ کو بڑا کرتا دھرتا سمجھنے والے جماعت سے نکل گئے لیکن اعتراض یہی کرتے رہے اور پرو پیگنڈا بھی اسی بات کا کرتے رہے کہ دیکھو جی ایک بچے کو چن لیا گیا ہے اس کو نہ عقل ہے نہ شعور بھلا یہ جماعت احمدیہ کا کام کیسے سنبھال سکے گا ؟ پھر اللہ تعالیٰ نے اس بچے کو وہ سمجھ اور فراست عطا کی کہ دنیا کے بڑے بڑے دماغ اس کے سامنے جھک گئے مثلاً محترم چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو اعلیٰ دماغ دیا ہے لیکن دنیوی لحاظ سے یہ اعلیٰ اور عظیم دماغ اس نا تجربہ کار وجود کے سامنے جھکنے پر مجبور ہوا اس لئے کہ خدا نے یہ کہا تھا کہ تم میری قدرت ثانیہ کا جلال اور جمال خلفاء میں دیکھو گے وہ قدرت ثانیہ کے رنگ میں تمہارے پاس آئیں گے چنانچہ بڑے بڑے عالم اور فاضل لوگ آپ کے پاس آئے ان سے باتیں ہوئیں ان میں عیسائی بھی تھے اور دہرئیے بھی لیکن سب کو آپ کے علم وفضل کے سامنے جھکنا پڑا انہوں نے کہا تھا کہ یہ ناتجربہ کار ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ نا تجربہ کار ہے مگر جو اس کے ساتھ لگے ہیں وہ ایک سے ہزا ر ہو جائیں گے اور تم جو اپنے آپ کو بڑا تجربہ کار سمجھتے ہو جو تمہارے ساتھ لگے ہیں وہ ہزار سے ایک ہو جائیں گے پس تجربہ کوئی چیز نہیں یہ بات تو صرف اللہ تعالیٰ کو سزوار ہے جس کا علم ہر چیز پر محیط ہے وہ لوگ تجربے کے گھمنڈ میں تھے اور خدا تعالیٰ کا یہ عاجز بندہ خدائے عَلَامُ الْغُيُوبِ کے علم کامل کے سہارے پر کام کر رہا ہے۔اب دیکھو کہ تجربہ کاری کا کیا نتیجہ نکلا اور خدائے تعالیٰ کی نصرت سے کیا نتیجہ نکلا۔پھر خلافت ثالثہ کا وقت آیا اس وقت ہماری جماعت میں بڑے عالم بڑے بزرگ بڑے ولی موجود تھے لیکن اللہ تعالیٰ کے انتخاب کی نظر مجھے عاجز کم مایہ پر پڑی اس نے اپنے قادرا نہ تصرف کی انگلیوں میں مجھے لیا اور مسند خلافت پر بٹھا دیا۔میں اپنی ذات میں جو ہوں وہ میں ہی جانتا ہوں آپ نہیں جانتے۔آپ اگر میری اس کم مائیگی کا تخیل بھی کریں تو تصویر میں بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتے جہاں تک مجھے اپنی اس عاجزی کا علم ہے میں تو بالکل ہی ایک کم مایہ انسان ہوں لیکن اللہ تعالیٰ