خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 79 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 79

خطبات ناصر جلد دوم ۷۹ خطبه جمعه ۲۲ / مارچ ۱۹۶۸ء عَرْضُهَا السَّمَوتُ وَالْأَرْضُ (ال عمران : ۱۳۴) اور وہ جن میں مسابقت کی روح پائی جاتی ہے۔ان میں چار علامتیں پائی جاتی ہیں۔اڈل۔یہ کہ هُمْ مِّنْ خَشْيَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُونَ وہ خَشْيَةُ اللهِ سے لرزاں رہتے ہیں اور دوسری جگہ فرما یا ولا يَخْشَوْنَ اَحَدًا إِلَّا الله (الاحزاب : ۴۰) کہ وہ اپنے دل کی اس کیفیت میں کسی اور کو اللہ کے سوا شریک نہیں بناتے۔یعنی خَشْيَةُ الله ہے اور صرف اللہ کی خشیت ہے کسی اور کی خشیت کو اس میں ملونی نہیں ہے یہاں اللہ نہیں کہا بلکہ اللہ تعالیٰ کی بنیادی اور اصولی صفات میں سے صفت رب کو منتخب کیا ہے اور فرمایا ہے کہ وہ اپنے رب کی خشیت سے لرزاں رہتے ہیں۔خشیت کے معنی ایسے خوف کے ہیں کہ جس سے خوف پیدا ہو اس کی ذات اور صفات کا علم بھی ہواور وہ ذات ایسی ہو کہ جب اس کا علم انسان کو حاصل ہو جائے تو اس کی عظمت بھی دل میں پیدا ہو تو خشية کے معنی یہ ہوئے کہ ایسا انسان اپنے رب سے یہ جانتے ہوئے کہ وہ تمام صفاتِ حسنہ سے متصف ہے اور ربوبیت کی انتہائی اور آخری ذمہ داری اسی پر ہے۔مُشَابِه بِرَبِّ شاید اس دنیا میں بھی ملیں لیکن اللہ کے علاوہ جو بھی درجہ بدرجہ جسمانی یا روحانی ارتقا کا باعث بنتے ہیں وہ اسی کے اذن اور اسی کی توفیق سے ایسا بنتے ہیں۔حقیقی طور پر اب وہی واحد یگانہ ہے پس جن لوگوں میں اس معنی میں رب کی خشیت پائی جاتی ہو اور هُمْ بِایتِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُونَ وہ سمجھتے ہوں کہ قرآن عظیم کا نزول انسان کی جسمانی اور روحانی ترقیوں کے لئے ہے۔آیات سے یہاں مراد ایک تو قرآن کریم ہے اور دوسرے وہ تمام آسمانی تائیدات ہیں جو قرآن کریم کی آیات کے ظلّ کے طور پر اس دنیا میں ہمیشہ نازل ہوتی ہیں اور نازل ہوتی رہیں گی۔تو جو لوگ اپنے رب کی خشیت اپنے دلوں میں رکھتے ہیں اور اس سے لرزاں اور ترساں رہتے ہیں اور وہ جو قرآن کریم پر کامل ایمان رکھتے ہیں اور قرآن کریم کے فیوض کو جاری یقین کرتے ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ابدی فیوض پر ایمان لاتے ہیں اور جو اس طرح پر شرک کے ہر پہلو سے محفوظ ہو گئے ہیں بِرَبِّهِمْ لَا يُشْرِكُونَ خفیہ یا ظاہری شرک بڑا یا چھوٹا شرک کوئی بھی ان کے قریب پھٹکنے نہیں پاتا اور وہ لوگ جن کے دل اس بات سے وَجِلَةٌ خوف زدہ رہتے ہیں کہ ہم اپنی سمجھ کے مطابق اعمالِ صالحہ بجا تو لائے۔ہم