خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 866
خطبات ناصر جلد دوم ۸۶۶ خطبہ جمعہ ۱۲ ستمبر ۱۹۶۹ء ان کے ایمان کے اندر رخنہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ رخنہ ابتدا میں سوئی کے ناکے کے برابر ہوتا ہے بظاہر بالکل معمولی سا نظر آتا ہے لیکن اندر سے گند کا ایک لوتھڑا بن جاتا ہے مثلاً آج کل سیب کا پھل عام ہے آپ نے دیکھا ہو گا بعض کیڑے سیب پر حملہ آور ہوتے ہیں آپ ایک سیب اُٹھا میں اس پر شوئی کے ناکے کے برابر داغ نظر آئے گا اور جب اسے کھولیں گے تو دیکھیں گے کہ اندر موٹی موٹی سونڈیاں پھر رہی ہوں گی حالانکہ اس سیب پر بظاہر شوئی کے ناکے سے زیادہ سوراخ نظر نہیں آئے گا۔ضمناً میں یہ بھی بتا دیتا ہوں کیونکہ سیب کی بات چل نکلی ہے اور میں سیب کو پسند کرتا ہوں کیونکہ دوسرے پھلوں کی نسبت بحالی صحت کے لئے مجھے یہ پھل زیادہ کھانا چاہیے۔کرنل ڈاکٹر شوکت صاحب نے اس دفعہ پھر میرے پیشاب وغیرہ کا معائنہ کیا ہے اور اس میں پھر Suger (شوگر) معمول سے زیادہ پائی گئی ہے گو یہ کسی بے احتیاطی کی وجہ سے بڑھ گئی ہے آپ میرے لئے دعا کریں کہ جس طرح پہلے بھی عارضی طور پر یہ نظام Upset ( آپ سیٹ ) ہوا تھا اور پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جلد ہی شفا عطا فرمائی تھی اب بھی چند دنوں میں آرام آجائے تا کہ یہ عوارض کام میں شستی پیدا کرنے کا موجب نہ بنیں۔اللہ تعالیٰ ہی صحت دینے والا اور شفا عطا کرنے والا ہے اسی پر ہمارا بھروسہ اور توکل ہے مجھے یقین ہے کہ اگر آپ درد دل سے دعا کریں گے اور اگر مجھے بھی اللہ تعالیٰ دل سے دعا کرنے کی توفیق عطا کرے گا تو انشاء اللہ مجھے صحت اور شفا جلد حاصل ہو جائے گی۔بہر حال سیب کے ذکر میں ضمناً یہ بات یاد آ گئی اور میں نے دعا کی تحریک کر دی ہے میں یہ بیان کر رہا تھا کہ سیب پر بظاہر ایک سوئی کے ناکے کے برابر داغ ہوتا ہے لیکن اندر سے شدید متاثر بلکہ کھوکھلا ہو چکا ہوتا ہے یہی حال نفاق کے داغ کا ہوتا ہے قرآن کریم کی رُو سے یہ بھی شروع میں بار یک سا دھبہ ہوتا ہے فرمایا ان معمولی سے دھبوں کو مٹانے میں غفلت سے کام نہ لینا تا ایسا نہ ہو کہ یہ دھبے پھیلتے پھیلتے سارے جسم پر محیط ہو جائیں اور انسان شیطانی ظلمات کے اندر گھر جائے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان آیات میں یہ بتایا ہے کہ منافق ایک مصلح کے روپ میں تمہارے