خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 862 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 862

خطبات ناصر جلد دوم ۸۶۲ خطبہ جمعہ ۱۲ ر ستمبر ۱۹۶۹ء اس بات میں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے مومن بندوں کو منافق دھوکا نہیں دے سکتے ، یہاں منافق کے دھوکے سے بچنے میں اللہ تعالیٰ نے مومن بندے کو بھی اپنے ساتھ شامل کیا۔یہ در حقیقت بڑے ہی پیار اور اعتماد کا اظہار ہے مگر اس کے ساتھ ہی ہم پر بڑی بھاری ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں کیونکہ بالواسطہ طور پر اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا منشا یہ ہے کہ اس کے مومن بندے بھی اس کی طرح ہر وقت چوکس اور بیدار رہیں اور اپنے دائرہ عمل میں ہر چیز کا علم ہر کا حاصل کریں۔انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی کوئی چیز ان سے پوشیدہ نہ رہے۔اب مثلاً میراعلم جو ہے اس کا ایک حصہ ایک لحاظ سے دراصل آپ کا ہی علم ہے کیونکہ مجھے کراچی کی بیدار اور چوکس جماعت بھی اطلاع بھجوا رہی ہے، مجھے راولپنڈی کی بیدار اور چوکس جماعت بھی اطلاع بھجوا رہی ہے، مجھے پشاور کی بیدار اور ہوشیار جماعت بھی اطلاع دے رہی ہے غرض ہر جگہ سے جہاں بھی ہماری جماعت قائم ہے وہاں سے مجھے اطلاع مل رہی ہے اور چونکہ میرا اور آپ کا وجود ایک ہی ہے۔اللہ کے فضل سے آپ میری آنکھیں ہیں جن کے ذریعہ سے میں دیکھتا اور علم حاصل کرتا ہوں آپ میرے کان ہیں جن کے ذریعہ سے میں سنتا اور حالات کی روش کو محسوس کرتا ہوں۔چنانچہ آپ کی فراست اور میری فراست دراصل ایک ہی تصویر کے دو رخ یا ایک ہی پیالے کے مختلف اطراف ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس طرح مجھے کوئی منافق دھوکا نہیں دے سکتا اس طرح میرے مومن بندے کی بھی یہی شان ہے اسے بھی کوئی منافق دھوکا نہیں دے سکتا۔بڑے ہی پیار کا اظہار ہے لیکن ساتھ ہی بڑا بے چین اور پریشان کر دینے والا بیان بھی ہے۔پس اللہ تعالیٰ سے دعا ہونی چاہیے کہ یہاں جس اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے ہم اس اعتماد پر پورا اتر نے والے ثابت ہوں۔فرمایا ان منافقوں کی دوسری علامت یہ ہے کہ ان کے دل میں مرض پیدا ہو چکا ہے اور یہ خود اپنے علاج کی طرف متوجہ نہیں ہوتے اس لئے خدا تعالیٰ کی صفات کا جو عام جلوہ ہے کہ جیسا کوئی بندہ ہوتا ہے اسی کے مطابق اس سے اس کا سلوک بھی ہوتا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مرض گھٹتا نہیں بلکہ فطرتی تقاضوں کی غلط روش سے ان کا مرض بڑھتا ہی چلا جاتا ہے چنانچہ قرآن کریم