خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 856
خطبات ناصر جلد دوم ۸۵۶ خطبہ جمعہ ۱۲ ستمبر ۱۹۶۹ء 159191 لا ور بنهم لا قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِعُونَ - اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَ يَعْمَهُونَ - أُولَبِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَلَةَ بِالْهُدى فَمَا رَبِحَتْ تِجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ - اس کے بعد حضور نے فرمایا:۔(البقرة: اتا۱۷) اس وقت پہلے تو میں اس رنج والم کا اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ کل ہمارے عزیز بھائی میجر عزیز احمد صاحب حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے اچانک وفات پاگئے ہیں إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ۔مرحوم بڑے مخلص اور دعا گو انسان تھے۔اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کی چادر میں انہیں لیٹے رکھے۔میں نمازوں کے بعد مرحوم کی غائبانہ نماز جنازہ بھی پڑھاؤں گا دوست اس میں شریک ہوں اور ان کی مغفرت کے لئے دعا کریں۔دوسرے دو ایک روز میں انشاء اللہ واپسی ہے۔دل جانے کے خیال سے اداس بھی ہے اور ربوہ پہنچنے کے لئے بے چین بھی۔دوست دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ سفر و حضر میں اپنی حفظ وامان میں رکھے۔اللہ تعالیٰ آپ دوستوں کو بھی اپنی رحمتوں سے نوازتا رہے اور جس طرح میں اس وقت تک تمام احباب کے لئے با قاعدگی کے ساتھ دعا کرتے رہنے کی توفیق پاتا رہا ہوں آئندہ بھی مجھے آپ کے لئے اسی کے فضل سے دعائیں کرنے کی توفیق ملتی رہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بے پایاں فضل سے ان دعاؤں کو شرف قبولیت بخشے۔اللہ تعالیٰ آپ سب مردوں اور عورتوں کو مجسم دعا بنا دے اور آپ سبھی مجسم دعا کی حیثیت میں اس کے قدموں میں جھکے رہیں اور ہمیشہ ہی وہ آپ کو پیار سے اُٹھا کر اپنی گود میں بٹھاتا رہے اور آپ اس کے فضلوں سے ہمیشہ ہمکنار رہیں۔دراصل یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ آپ ہمیشہ اپنے مقام عجز وعبودیت کو پہچانتے رہیں۔پہلے تو میرا خیال تھا کہ اسلامی اقتصادیات پر جو سلسلہ مضمون شروع کر رکھا ہے (جس پر میں بہت سے خطبات دے چکا ہوں جن میں سے چھ سات خطبات چھپ چکے ہیں اور کچھ چھپنے والے باقی بھی رہتے ہیں۔یہ سلسلہ مضمون بھی ختم نہیں ہوا ) اس تسلسل میں جو اصل مضمون ہے اسے پیچھے ڈال دوں اور سارے مضمون کو خلاصے کے طور پر ایک خطبہ میں بیان کر دوں۔جب اصل مضمون بھی بیان ہو جائے گا تو یہ سارے خطبات ترتیب وار شائع ہو جائیں گے لیکن پھر مجھے خیال پیدا ہوا کہ