خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 850 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 850

خطبات ناصر جلد دوم ۸۵۰ خطبہ جمعہ ۵ ستمبر ۱۹۶۹ء کرتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے اپنی صفات کے جلوے اس دنیا میں اس رنگ میں ظاہر کئے ہیں کہ تمہاری کوئی قوت بھی یہ نہیں کہہ سکتی کہ اے میرے رب ! میں نے تجھ سے یہ مانگا تھا اور تو نے وہ مجھے دیا نہیں۔یہ التجا دوسری دعا کی طرح نہیں ہے جو کبھی تو قبول ہو جاتی ہے اور کبھی رڈ کر دی جاتی ہے۔یہ تو دراصل انسان کی ہر قوت، ہر عضو اور ہر استعداد کا فطرتی تقاضا ہے جس کا اظہار وہ زبانِ حال سے کر رہی ہوتی ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام کیا ہے کہ کسی قوت کے ضائع ہونے کا امکان باقی نہیں رہا۔اگر انسان از خود حماقت، تکبر یا اللہ تعالیٰ سے بغاوت کی راہ اختیار نہ کرے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے انسان کی ہر قوت اپنے نشو ونما کے کمال کو پہنچ جاتی ہے۔غرض زمین یا الارض وہ ہے جس کے اندر انسان کو خدا تعالیٰ کی صفات کے بعض مخصوص جلوؤں کے ساتھ باندھ دیا گیا ہے۔اس کی آنکھ کو بھی ، اس کے کان کو بھی ، اس کی زبان کو بھی ، اس کی ناک کو بھی ، اس کے جسم کے گوشت کے مختلف حصوں کو بھی ، اس کے جسم کی ہڈیوں کے مختلف حصوں کو بھی ، اس کے جسم کے اعصاب کے مختلف حصوں کو بھی ، انسانی دماغ اور اس کے مختلف حصوں کو بھی فَقَدَرَةُ تَقْدِيرًا کی رُو سے اللہ تعالیٰ نے اپنے مخصوص جلوؤں کے ساتھ محدود ومقید کر دیا ہے۔پس یہ ہے وہ زمین یا الارض، جس میں انسان کی ہر قوت، ہر قابلیت ، ہر استعداد اللہ تعالیٰ کی صفات کے مختلف جلوؤں میں سے کسی نہ کسی جلوے کے ساتھ بندھی ہوئی ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے یہ زمین ہے اور اس زمین کے بغیر تم کہیں بھی زندہ نہیں رہ سکتے۔انسانی عقل بھی یہی کہتی ہے کیونکہ ہمارے پھیپھڑے اسی ہوا کے محتاج ہیں۔ہمارا جسم اسی زمینی پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔اگر انسان کسی ایسی جگہ چلا جائے جہاں صوتی لہریں اُن لہروں سے مختلف ہوں جن کے لئے کان Tune ( ٹیون ) کئے گئے ہیں تو کوئی آواز سنائی ہی نہ دے خواہ دنیا میں ایک ہنگامہ محشر ہی کیوں نہ بپا ہو لیکن انسان سمجھ رہا ہو کہ بالکل سکون ہے۔بے شک یہ فضا زندگی سے لبریز کیوں نہ ہو مگر انسان اس میں کوئی ہل چل ہی محسوس نہ کرے۔اسی طرح آنکھیں ہیں اگر یہ روشنی نہ ہو دوسری قسم کی روشنی ہو تو اس میں انسان تو اندھے کا اندھا رہے حالانکہ خدا کی مخلوق روشنی میں زندگی سے لطف اندوز ہو رہی ہوتی ہے، خوشی سے اپنی زندگی گزار رہی ہوتی ہے۔مگر