خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 848 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 848

خطبات ناصر جلد دوم ۸۴۸ خطبہ جمعہ ۵ ستمبر ۱۹۶۹ء ضرورت کے مطابق ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے انسان حتی کہ اس کے ہر ایک عضو کے تقاضا کے مدنظر اس کے مناسب حال چیزیں پیدا کر دیں۔چنانچہ سورۃ ابراہیم کی مندرجہ بالا آیہ کریمہ اسی حقیقت کی غماز ہے۔اللہ تعالیٰ نے بڑے پیارے انداز میں فرمایا کہ ہر وہ مطالبہ جو تمہارے وجود نے ہم سے اپنی بقا اور اپنے ارتقا کے لئے کیا وہ ہم نے پورا کر دیا۔یہ تو ایک زاویہ نگاہ تھا۔دوسرا نقطۂ نگاہ جو دراصل پہلے بیان کرنا چاہیے تھا لیکن مصلحتاً میں نے اس کو پیچھے رکھا ہے یہ تھا کہ جو بھی تمہارے اندر قابلیت ہے اس کی بقا اور ارتقا اور کمال نشو ونما کے لئے جس چیز کی ضرورت تھی وہ ہم نے پیدا کر دی۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرما یا خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا۔(الفرقان : ۳) ہر چیز کو پیدا کیا اور اس کی حد بندی کر دی۔اب اس آیت سے ہمیں یہ پتہ لگتا ہے کہ انسان کو اسی زمین پر رہنے کی ضرورت کیوں ہے اور وہ زمین سے باہر اپنی زندگی کیوں نہیں گزار سکتا اس لئے کہ اس زمینی حد بندی کو توڑنا انسان کے بس کا روگ نہیں مثلاً ہمارے پھیپھڑے ہیں۔ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہوا پیدا کر دی اور ساتھ ہی یہ حد بھی لگا دی کہ ان انسانی پھیپھڑوں کی زندگی اس ہوا تک محدود ہے اس ہوا کے بغیر اور کسی چیز سے وہ زندگی حاصل کر ہی نہیں سکتے۔ویسے اس میں شک نہیں کہ ہواؤں ہواؤں میں بھی فرق ہے۔اگر ہم بلندی پر چلے جائیں تو سانس پھولنے لگ جاتا ہے، آکسیجن کم ہو جاتی ہے۔بہت ساری چیزیں ہیں کچھ ہمیں معلوم ہیں اور کچھ آگے چل کر انشاء اللہ معلوم ہوں گی۔پس فرمایا کہ ہم نے ہر ایک چیز کو پیدا کیا اور پھر اس کو محدود یعنی ایک حد کے اندر مقید کر دیا ہے وہ اس سے باہر نہیں جاسکتی۔پھیپھڑے صرف اس ہوا سے آکسیجن لے سکتے ہیں جو اس زمین میں پیدا کی گئی ہے۔ہمارے جسم صرف اس پانی سے زندگی حاصل کر سکتے ہیں جو اس زمین میں پیدا کیا گیا ہے ہماری آنکھ صرف روشنی کی ان لہروں کو دیکھ سکتی ہے جواہر میں اس غرض کے لئے اس زمین میں بنائی گئی ہیں۔ہمارے کان جن صوتی لہروں کے ساتھ Tune (ٹیون) کئے ہوئے یعنی ان کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔ایک تو یہ کہ صوتی لہریں ہیں اور اپنی بے شمار خصوصیات