خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 835
خطبات ناصر جلد دوم ۸۳۵ خطبہ جمعہ ۵ ستمبر ۱۹۶۹ء انسانی زندگی کی بقا کا ایک بڑا ذریعہ ہوا ہے۔ہمارے پھیپھڑے ہوا سے آکسیجن لیتے ہیں اور اس طرح ہماری زندگی کی بقا کا انتظام ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے بعض ایسی مخلوق بھی پیدا کر دی ہے جوا اپنی زندگی کا یہ سامان ہوا سے نہیں لیتی بلکہ پانی سے لیتی ہے۔مثلاً مچھلی ہے جس ہوا پر انسانی زندگی کا مدار ہے وہی ہوا مچھلی کے لئے موت کا پیغام بن جاتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ زمین وہ ہے کہ جس کے گرد ہم نے ایک آسمان بنایا ہے اور اس میں ہم نے انسان کے لئے بہت سے فوائد رکھے ہیں جن کے بغیر اس دنیا میں انسانی زندگی ممکن ہی نہیں۔چنانچہ اب تک کسی بھی سائنس دان نے یہ دعوی نہیں کیا اور نہ ہی کوئی کر سکتا ہے اور نہ عقل اس کو قبول ہی کر سکتی ہے کہ ہوا کے بغیر انسان زندہ رہ سکتا ہے یا اس کے بغیر انسان سن سکتا ہے یا ہوا کے بغیر انسانی پھیپھڑے سانس لے سکتے ہیں یا انسان اُن ہلاکتوں سے محفوظ رہ سکتا ہے جن کی یورش بڑی تیزی اور بڑی وسعتوں کے ساتھ زمین پر ہو رہی ہے۔پس قرآن کریم کی رُو سے زمین وہ مخلوق ہے، وہ مجموعہ صفات ہے جس کے گرد آسمان حلقہ کئے ہے اور پھر یہ بھی کہ اس کے اندر بہت سی مفید خصوصیات پائی جاتی ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ زمین وہ ہے کہ جس کے اندر وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حي ـ (الانبیاء : ۳۱) کہ جس میں ہم نے ایک ایسا پانی پیدا کیا ہے جس پر حیات کا مدار ہے یعنی ہر د نیوی مخلوق کی زندگی کا انحصار پانی پر ہے یہ زندگی شجر کی ہے تب بھی اور اگر حجر کی ہے تب بھی اس کا مدار پانی پر ہے۔پتھروں کے ذرے آپس میں نمی کی وجہ سے مل کر ٹھوس شکل میں نظر آتے ہیں اگر ان میں نمی نہ ہو تو یہ ریزہ ریزہ ہو جائیں۔یہ ہیرا ہیرا نہ رہے۔غرض یہ اللہ تعالیٰ کا جلوہ ہے جس کی بدولت دنیا کی ہر چیز حیات پاتی ہے۔ورنہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی وجہ سے یہ جلوہ معرض تعطل میں پڑ جائے تو پانی کے بند ہو جانے سے اجزائے عناصر میں ایسا انتشار پیدا ہو جائے کہ جس سے زندگی اور بقا ممکن ہی نہ رہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ زمین وہ ہے جس میں الماء جاری کیا۔خالی ماء نہیں فرمایا بلکہ الماء کہہ کر اس طرف اشارہ فرمایا کہ یہ پانی اپنے اجزا کے لحاظ سے وہ مخصوص پانی ہے جس پر حیات اور اس کی بقا کا مدار ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ