خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 833
خطبات ناصر جلد دوم ۸۳۳ خطبہ جمعہ ۵ ستمبر ۱۹۶۹ء پس مخلوق قرآن کریم کی رُو سے ان صفات کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کے حکم سے حدوث کا جامہ پہن لیتی ہیں اور حادثیت کا وجود اختیار کر کے مخلوق بن جاتی ہیں ان کے سوا کوئی اور چیز مخلوق نہیں کیونکہ یہ کائنات ارضی و سماوی اللہ تعالیٰ کے ان جلوؤں پر مشتمل ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک مادی رنگ میں وجود پذیر ہے۔ویسے تو اب سائنس نے بھی اس مسئلہ کو سمجھنا آسان بنا دیا ہے کیونکہ پہلے مادے اور Energy (طاقت) میں بہت بڑا فرق سمجھتے تھے۔مادے کو ایک اور چیز سمجھتے تھے اور اس کے پیچھے جو طاقت اور قوت کارفرما ہے اس کو ایک علیحدہ چیز سمجھتے تھے لیکن اب سائنس دانوں نے مادے کی جونئی تعریف کی ہے وہ یہ ہے کہ "A matter is nothing but another form of enegry۔" یعنی یہ مادہ تو دراصل طاقت ہی کی ایک اور شکل ہے۔پس اس سے ہمارے لئے یہ سمجھنا آسان ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کے جلوے، اس کی صفات کے جلوے اس کے حکم اور ارادے سے مادی شکل میں متشکل ہو کر مخلوق بن جاتے ہیں جیسا کہ سائنس دانوں کے نزدیک Energy ( طاقت ) جو ہے وہی ایسی شکل اختیار کرتی ہے کہ وہ بالآخر مادہ بن جاتی ہے۔ہمارے لئے اس نئی سائنسی تحقیق نے سر ربوبیت کو سمجھنا آسان کر دیا ہے۔پس ہر مخلوق صفات باری تعالیٰ کا اثر یا ظل ہے۔اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس نے حدوث کا جامہ پہن لیا ہے۔غرض جب مخلوق کی حقیقت ہم پر کھل گئی تو ہمارے لئے زمین کی تعریف جو قرآن کریم نے بیان کی ہے اس کا سمجھنا بھی آسان ہو جاتا ہے۔چنانچہ اس پس منظر میں کہ مخلوق کسے کہتے ہیں۔قرآن کریم کی رُو سے زمین کی تعریف یہ ہوئی کہ صفات باری تعالیٰ کے بے شمار جلوؤں یا آثار صفات باری تعالیٰ کے مخصوص مجموعہ کا نام زمین ہے۔پھر آگے خود قرآن کریم نے اس مخصوص مجموعہ صفات باری تعالیٰ یا مجموعه آثار صفات باری تعالیٰ کی خصوصیات بھی بیان کی ہیں تا کہ ہمیں پتہ چل جائے کہ "الأرض" کا لفظ رکن معنوں میں استعمال ہوا ہے۔قرآن کریم میں متعدد آیات ہیں جن میں زمین کے متعلق بتایا گیا ہے کہ زمین یہ ہے۔ہم نے زمین کو ایسا بنایا ہے اور ہم نے زمین میں یہ یہ خاصیتیں رکھی ہیں وغیرہ۔اس وقت میں چند مثالیں دوں گا تا کہ مسئلہ