خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 832
خطبات ناصر جلد دوم ۸۳۲ خطبہ جمعہ ۵ ستمبر ۱۹۶۹ء اپنی اپنی سمجھ کے موافق ہر یک شخص ذہن نشین کر سکتا ہے چاہے اس طرح سمجھ لے کہ مخلوقات کلماتِ الہی کے اظلال و آثار ہیں یا ایسا سمجھ سکتا ہے کہ خود کلمات الہی ہی ہیں جو بقدرت الہی مخلوقیت کے رنگ میں آ جاتے ہیں۔یعنی اللہ تعالیٰ کی صفات کے یہ جلوے ہیں۔اللہ تعالیٰ جو حکم دیتا ہے وہ ایک جلوے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔کلمہ در اصل حکم ہے کن کا کہ تم یہ شکل اختیار کر لو چنانچہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور منشا اور اس کے ارادے اور اس کے حکم سے صفات الہیہ ایک مخلوقیت کا رنگ اپنے اوپر لے لیتی ہیں اور ایک حدوث میں متشکل ہو کر مخلوق بن جاتی ہیں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں :۔در حقیقت یہ ایک ستر اُن اسرار خالقیت میں سے ہے جو عقل کے چرخ پر چڑھا کر اچھی طرح سمجھ میں نہیں آسکتے اور عوام کے لئے سیدھا راہ سمجھنے کا یہی ہے کہ خدائے تعالیٰ نے جو کچھ پیدا کرنا چاہا وہ ہو گیا اور جس قدر قطع اور یقین کے طور پر قرآن شریف۔۔۔۔۔۔ہدایت کرتا ہے وہ یہی ہے کہ ہر یک چیز خدائے تعالیٰ سے ظہور پذیر و وجود پذیر ہوئی ہے اور کوئی چیز بغیر اس کے پیدا نہیں ہوئی اور نہ خود بخود ہے۔“ اسی کتاب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں :۔”ہاں بے شک یہ تو ہم مانتے ہیں اور مان لینا چاہیے کہ جو کچھ صفتیں جناب الہی کی ذات میں موجود ہیں انہیں صفات غیر محدود کے آثار اپنے اپنے وقتوں میں ظہور میں آتے ہیں نہ کوئی امران کا غیر اور وہ صفات ہر یک مخلوق ارضی و سماوی پر مؤثر ہو رہی ہیں اور انہیں آثار الصفات کا نام سنّت اللہ یا قانون قدرت ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں :۔یہ نہایت محقق صداقت ہے کہ ہر یک چیز اپنے اندر ایک ایسی خاصیت رکھتی ہے جس سے وہ خدائے تعالیٰ کی غیر متناہی قدرتوں سے اثر پذیر ہوتی رہی۔سواس سے ثابت ہوتا ہے کہ خواص اشیاء ختم نہیں ہو سکتے گو ہم اُن پر اطلاع پائیں یا نہ پائیں۔۵۴ 66