خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 829
خطبات ناصر جلد دوم ۸۲۹ خطبہ جمعہ ۵ ستمبر ۱۹۶۹ء چاند پر پہنچنا انسان کا ایک عظیم تاریخی کارنامہ ہے ہرگز قرآن کریم پر وجہ اعتراض نہیں خطبه جمعه فرموده ۵ رستمبر ۱۹۶۹ء بمقام احمد یہ ہال۔کراچی تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے یہ آیات تلاوت فرمائیں۔وَ لَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعُ إِلى حِينٍ - قَالَ فِيهَا تَحْيَونَ وَ فِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ (الاعراف: ۲۶،۲۵) اس کے بعد فرمایا:۔سال رواں ۲۱ جولائی کو زمین سے باہر نکل کر انسان کا پہلا قدم چاند پر پڑا اس میں شک نہیں کہ تسخیر عالم کی عظیم جد و جہد میں انسان کا یہ بہت بڑا تاریخی کارنامہ ہے لیکن اس عظیم کارنامہ کے نتیجہ میں مسلمانوں کے بعض طبقوں میں بھی اور میرے خیال میں مذہبی دنیا کے بعض دوسرے حصوں میں بھی کچھ غلط فہمیوں کی وجہ سے ذہنی انتشار پیدا ہوا۔چنانچہ تنزانیہ سے مجھے ایک خط میں یہ اطلاع ملی کہ وہاں ہمارے مبلغ کسی استقبالیہ دعوت میں شریک ہوئے اور اس موقع پر انہوں نے یہ باتیں سنیں کہ انسان کا چاند پر جانا قرآن کریم کے خلاف ہے اور اس قسم کی بات کو قبول کر لینا موجب کفر ہے۔اسی طرح رنگون کے ایک خط میں یہ ذکر تھا کہ وہاں ہمارے مبلغ نے بعض پڑھے لکھے لوگوں حتی کہ بعض علماء کو یہ کہتے سنا کہ اگر چاند پر انسان پہنچ بھی چکا ہو پھر بھی ہمیں اس