خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 817 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 817

خطبات ناصر جلد دوم MIZ خطبه جمعه ۲۲ /اگست ۱۹۶۹ ء میں جہاں یہ اعلان فرما یا إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُم وہاں شروع میں یہ فرما یا کہ اب تو حید خالص تمہیں بشر کے مقام سے اُٹھا کر قرب الہی کے اعلیٰ مقام تک پہنچا سکتی ہے کیونکہ تو حید خالص پر عمل قائم ہونا وحی الہی یعنی اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے بغیر ممکن ہی نہیں اس لئے فرما یا أَنَّمَا الهُكُمْ الهُ وَاحِدٌ فرما یا وحی کے ذریعہ سکھایا ہے کہ تم روحانی رفعتوں کو کن ہدایات پر عمل کر کے حاصل کر سکتے ہو۔جیسا کہ میں نے ابھی تشریح کی ہے پہلے یہ فرمایا تھا کہ اعمال صالحہ بجالا نا۔دوسری جگہ فرمایا کہ خالی اعمال صالحہ بجالانے کافی نہیں بلکہ استقلال اور استقامت سے اعمال صالحہ بجالانا ضروری ہے۔یہ نہیں کہ رمضان کے پہلے پندرہ دن روزے رکھ لئے اور دو دو گھنٹے تک نماز تراویح پڑھنے میں لگے رہے لیکن اگلے پندرہ دن تاش کھیلنے میں گزار دیئے۔فرمایا فَاسْتَقِيمُوا إِلَيْهِ اللہ تعالیٰ کی طرف انابت اور رجوع کی حالت میں استقلال اور استقامت پیدا کرو اور یہی کیفیت اعمالِ صالحہ کے بجالانے میں بھی پیدا کرو۔پھر یہ فرمایا وَ اسْتَغْفِرُوہ تم اپنے زور سے ایسا کر بھی نہیں سکتے اس لئے اللہ تعالیٰ کی مدد مانگو۔پس فرمایا اگر تم استقلال اور استقامت سے اعمالِ صالحہ پر قائم رہو گے اور اعمالِ صالحہ کی بجا آوری میں اپنی قوت، اپنی استعداد، اپنی طاقت اور اپنی قابلیت ، اپنے تقویٰ اور طہارت پر بھروسہ نہیں کرو گے، اللہ تعالیٰ کی ہدایت پر کار بند رہتے ہوئے اس سے مدد چاہو گے تو پھر تم اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کی لقا کو حاصل کر لو گے۔اس کے بعد فرمایا ہے وَيْلٌ لِلْمُشْرِكِينَ سورہ کہف کی آیہ کریمہ کے آخر میں فرمایا تھا لا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبَّةٍ أَحَدًا کسی اور کو شریک فِي الْعِبَادَة نہیں کرنا۔یہاں یہ فرمانے کے بعد کہ اعمالِ صالحہ بجالانے میں استقلال اور استقامت سے قائم رہنا یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کی رضا کو زور بازو سے حاصل نہیں کر سکتے۔اگر تم یہ سمجھو کہ رضائے الہی کے حصول کی طاقت خود تمہارے اندر موجود ہے تو تم متکبر ہو کر خدا تعالیٰ کی نگاہ سے گر جاؤ گے۔اس لئے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے رہو اور اس سے یہ دعا کرتے رہو کہ وہ تمہاری کمزوریوں کو ڈھانپ لے اور اس نے جو طاقتیں اور قابلیتیں تمہیں عطا کی ہیں وہ انہیں اُجاگر کرے اور ان میں جلا بخشے۔اگر تم اس میں کامیاب ہو گئے تو تم نے مقصد حیات کو پالیا اگر کامیاب نہ ہوئے تو سمجھو کہ تم توحید خالص سے بھٹک گئے۔تم نے کچھ خدا کا اور کچھ اس کے غیر کا سمجھ لیا۔تم بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکے