خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 790
خطبات ناصر جلد دوم 490 خطبہ جمعہ یکم اگست ۱۹۶۹ء کہ انسانیت کو ہلاکت سے محفوظ رکھنے کا فرض ہم پر عائد کیا گیا ہے اگر ہمیں یہ اہم کام سونپا گیا ہے تو پھر ہمارے لئے یہ از بس ضروری ہے کہ ہم ان دو روشنیوں ، ان دو چھکوں اور ان دوحسنوں کے ذریعہ سے بنی نوع انسان کے دلوں کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے رب کے لئے جیت لیں۔اگر ہم حقیقی معنوں میں کوشش کریں اپنی زندگیوں کو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حُسنِ اخلاق کے نور سے منور کر لیں اور ہماری زندگیوں میں آپ کے حسن سلوک کی جھلک نظر آنے لگے تو کوئی وجہ نہیں کہ آج کا انسان ہم سے پرے ہٹے اور ہماری طرف دوڑا ہوا نہ آئے۔ہمارے گلے سے آکر لپٹ نہ جائے ہمارا ممنونِ احسان نہ بن جائے اور وہ بر ملا اعتراف نہ کرنے لگے کہ تم ہی وہ لوگ ہو جنہوں نے ہمیں وہ نور دکھایا جس نے ہمارے سارے اندھیروں کو دور کر دیا اور تم ہی وہ لوگ ہو جنہوں نے اس مبارک چہرہ سے جو ہر پہلو سے، ہر زاویہ سے اللہ تعالیٰ کا سرا پا نو ر تھا اس سے ہمیں متعارف کراد یا اور اللہ تعالیٰ جو ایک زندہ طاقت اور ایک زندہ وجود ہے اور جو حی وقیوم ہے اس کے ساتھ ہمارا زندہ تعلق قائم کر دیا کیونکہ اس کے باہر تو محض لفاظی ہے۔بقا اور قیام نہیں۔اگر حی خدا کے ساتھ ہمارا تعلق نہیں تو ہماری زندگی کوئی زندگی نہیں اور اگر قیوم خدا کے ساتھ ہمارا تعلق نہیں تو ہماری بقا کوئی بقا نہیں اور حتی وقیوم خدا کے ساتھ تعلق اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسانی زندگی میں یہ دو عظیم خلق دو طرفہ طور پر جلوہ گر ہوں اس طرح ایک محسن کا ہالہ اور ایک نور کا ہالہ انسان کے دل کے گرد آ جاتا ہے جس کے نتیجہ میں کسی ظلمت اور کسی اندھیرے کا اس ہالہ میں سے گزر کر اس کے دل تک پہنچنا ممکن ہی نہیں رہتا۔پس گم کرده راہِ انسان کو بچانے اور سیدھے راستے پر لانے کی یہی ایک تدبیر ہے ورنہ قریب ہے کہ وہ ہلاکت کے گڑھے میں جا گرے۔اس کو ہلاکت سے بچانے کی ذمہ واری ہم پر عائد ہوتی ہے اور اس ذمہ داری کی بجا آوری کے لئے ہمیں نسلاً بعد نسل قربانیاں دینی پڑیں گی کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے یہ وعدہ ہے کہ تین صدیوں کے اندر اندر اسلام تمام دنیا پر غالب ہو جائے گا اسلام کو دنیا پر کامل غلبہ بخشنے کے لئے ہی آپ کو مبعوث کیا گیا ہے۔ہم امید رکھتے ہیں کہ جب تین صدیوں کے اندر اندر کہا گیا ہے تو تین صدیاں پوری نہیں ہوں گی کہ اسلام کو