خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 769 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 769

خطبات ناصر جلد دوم ۷۶۹ خطبہ جمعہ ۲۵ جولائی ۱۹۶۹ء تقاضوں کو پورا کرے گا تو پھر اللہ تعالیٰ کی ایک ایسی لازوال محبت اسے ملے گی جو کسی غیر کومل ہی نہیں سکتی۔لیکن باوجود اس کے کہ ہم نے تمہیں غیر سے ممتاز کیا ہے پھر بھی قَلِيلًا مَا تَشْكُرُونَ تم میں سے بہت تھوڑے ہیں جو میرے شکر گزار بندے بنتے ہیں۔ویسے تو قرآن کریم کے مخاطب تمام بنی نوع انسان ہیں لیکن قرآن کریم جب اپنے مخاطب سے بات کر رہا ہو یا اللہ تعالیٰ قرآن کریم کے ذریعہ اپنے بندے سے بات کر رہا ہو تو کبھی وہ ایک گروہ کو مخاطب کرتا ہے کبھی وہ دوسرے گروہ کو مخاطب کر لیتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ہم اس کے ایک معنی یہ بھی کر سکتے ہیں کہ مسلمان کو مخاطب کر کے کہا جَعَلَ لَكُمُ السَّبْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَنْدَة تمہیں کان دیئے ،تمہیں آنکھیں دیں اور تمہیں دل دیا کہ تم اللہ تعالیٰ کی تعلیم کو سنو اس کے نشانوں کو دیکھو اور پھر صیح نتیجہ اخذ کرو۔اپنی قوتوں اور استعدادوں کی کماحقہ نشوونما کر کے اللہ تعالیٰ کے قرب کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرو۔تم بڑے ہی خوش بخت انسان ہو جنہیں اسلام جیسا مذہب ملا ، اس پر عمل کرنے کی توفیق ملی اور اس پر عمل پیرا ہونے کا جو انعام ہے یعنی محبت الہی وہ تمہیں نصیب ہوئی۔لیکن اے وہ بد بخت انسان جس نے قرآن کریم کی آواز پر لبیک نہیں کہا تو کتنا سخت ہے فطرت کی آواز پر تو نے کان نہیں دھرے۔اللہ تعالیٰ کی وحی کے نتیجہ میں ایک انقلاب عظیم بپا ہوا مگر تو نے آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا اور تو نے اپنے گر دو پیش کے حالات سے وہ نتیجہ نہ نکالا جو ایک صحیح دل نکال سکتا تھا۔آخر نتیجہ یہ نکلا کہ تو اللہ تعالیٰ کی ناشکری پر اتر آیا۔تو نے اس کے قُرب کی راہوں کی بجائے اس سے دوری کی راہوں کو اختیار کر لیا اور اس طرح تو اپنے اس مقصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہا جس مقصد کے لئے تجھے پیدا کیا گیا تھا۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہے سورہ سجدہ کی اس مذکورہ بالا آیت (اور اس سے پچھلی آیتوں کو ملا کر کیونکہ سارا مضمون ایک ہی چل رہا ہے) میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے کہ انسان کو ہر لحاظ سے کامل اور مکمل طاقتیں عطا ہوئی ہیں اور پھر ان طاقتوں کی کماحقہ ،نشو و نما کے لئے یہ سامان بھی پیدا کیا کہ اس کے لئے اپنی وحی کی روشنی کا حصول ممکن بناد یا انسان کو اختیار دیا گیا ہے کہ اگر وہ چاہے اور اس کے دل میں اپنے رب کی محبت حاصل کرنے کی خواہش بھی موجزن ہو تو وہ اپنے اس مقصد